bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Numbers 12
Numbers 12
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 11
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 13 →
1
اور مُوسیٰؔ نے ایک کُوؔشی عَورت سے بیاہ کر لِیا۔ سو اُس کُوؔشی عَورت کے سبب سے جِسے مُوسیٰؔ نے بیاہ لِیا تھا مریمؔ اور ہارُونؔ اُس کی بدگوئی کرنے لگے۔
2
وہ کہنے لگے کہ کیا خُداوند نے فقط مُوسیٰؔ ہی سے باتیں کی ہیں؟ کیا اُس نے ہم سے بھی باتیں نہیں کِیں؟ اور خُداوند نے یہ سُنا۔
3
اور مُوسیٰؔ تو رُویِ زمِین کے سب آدمِیوں سے زِیادہ حلِیم تھا۔
4
سو خُداوند نے ناگہان مُوسیٰؔ اور ہارُونؔ اور مریمؔ سے کہا کہ تُم تِینوں نِکل کر خَیمۂِ اِجتماع کے پاس حاضِر ہو۔ سو وہ تِینوں وہاں آئے۔
5
اور خُداوند ابر کے سُتُون میں ہو کر اُترا اور خَیمہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر ہارُونؔ اور مریمؔ کو بُلایا۔ وہ دونوں پاس گئے۔
6
تب اُس نے کہا میری باتیں سُنو۔ اگر تُم میں کوئی نبی ہو تو مَیں جو خُداوند ہُوں اُسے رویا میں دِکھائی دُوں گا اور خواب میں اُس سے باتیں کرُوں گا۔
7
پر میرا خادِم مُوسیٰؔ اَیسا نہیں ہے۔ وہ میرے سارے خاندان میں امانت دار ہے۔
8
مَیں اُس سے مُعمّوں میں نہیں بلکہ رُوبرُو اور صرِیح طَور پر باتیں کرتا ہُوں اور اُسے خُداوند کا دِیدار بھی نصِیب ہوتا ہے۔ سو تُم کو میرے خادِم مُوسیٰؔ کی بدگوئی کرتے خَوف کیوں نہ آیا؟
9
اور خُداوند کا غضب اُن پر بھڑکا اور وہ چلا گیا۔
10
اور ابر خَیمہ کے اُوپر سے ہٹ گیا اور مریمؔ کوڑھ سے برف کی مانِند سفید ہو گئی اور ہارُونؔ نے جو مریمؔ کی طرف نظر کی تو دیکھا کہ وہ کوڑھی ہو گئی ہے۔
11
تب ہارُونؔ مُوسیٰؔ سے کہنے لگا ہائے میرے مالِک! اِس گُناہ کو ہمارے سر نہ لگا کیونکہ ہم سے نادانی ہُوئی اور ہم نے خطا کی۔
12
اور مریمؔ کو اُس مَرے ہُوئے کی طرح نہ رہنے دے جِس کا جِسم اُس کی پَیدایش ہی کے وقت آدھا گلا ہُؤا ہوتا ہے۔
13
تب مُوسیٰؔ خُداوند سے فریاد کرنے لگا کہ اَے خُدا! مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں اُسے شِفا دے۔
14
اور خُداوند نے مُوسیٰؔ سے کہا کہ اگر اُس کے باپ نے اُس کے مُنہ پر فقط تُھوکا ہی ہوتا تو کیا سات دِن تک وہ شرمِندہ نہ رہتی؟ سو وہ سات دِن تک لشکر گاہ کے باہر بند رہے۔ اِس کے بعد وہ پِھر اندر آنے پائے۔
15
چُنانچہ مریمؔ سات دِن تک لشکر گاہ کے باہر بند رہی اور لوگوں نے جب تک وہ اندر آنے نہ پائی کُوچ نہ کِیا۔
16
اِس کے بعد وہ لوگ حصیرات سے روانہ ہُوئے اور دشتِ فارانؔ میں پُہنچ کر اُنہوں نے ڈیرے ڈالے۔
← Chapter 11
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 13 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36