bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
Proverbs 18
Proverbs 18
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 17
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 19 →
1
ہر کسی کو غَیر سمجھنے والا آدمی خُود غرض ہوتاہے، وہ ہر مَعقُول بات سے برہم ہو جاتا ہے۔
2
احمق کو فہم سے کویٔی خُوشی نہیں ہوتی۔ وہ صِرف اَپنی مرضی ظاہر کرکے خُوش ہوتاہے۔
3
جَب بدکاری آتی ہے تو رُسوائی اُس کے ساتھ ہوتی ہے، اَور شرم کا کام اَپنے ساتھ رُسوائی لاتا ہے۔
4
اِنسان کے مُنہ کی باتیں گہرے پانی کی مانند ہیں، لیکن حِکمت کا چشمہ بہتی ہُوئی نہر ہے۔
5
بدکار کی جانِبداری کرنا یا بے قُصُور کو اِنصاف سے محروم رکھنا، اَچھّا نہیں۔
6
احمق کے لب اُس کے لیٔے فتنہ برپا کرتے ہیں، اَور اُس کا مُنہ تھپّڑ کھانا چاہتاہے۔
7
احمق کا مُنہ اُس کی ہلاکت ہے، اَور اُس کے ہونٹ اُس کی جان کے لیٔے پھندا ہیں۔
8
غیبت گو کی باتیں لذیذ نوالوں کی مانند؛ اِنسان کے اَندر اُتر جاتی ہیں۔
9
جو کوئی اِنسان اَپنے کام میں سُستی کرتا ہے وہ تباہ کرنے والے کا بھایٔی ہے۔
10
یَاہوِہ کا نام محکم بُرج ہے؛ راستباز اُس میں بھاگ جاتے ہیں اَور محفوظ رہتے ہیں۔
11
اَمیروں کی دولت اُن کا محکم شہر ہے؛ وہ اُسے ناقابلِ عبور فصیل سمجھتے ہیں۔
12
اِنسان کے دِل کا تکبُّر اُس کے لیٔے ہلاکت لاتا ہے، لیکن فروتنی اُس کے لیٔے عزّت لاتی ہے۔
13
جو آدمی بات سُننے سے پہلے ہی اُس کا جَواب دیتاہے۔ اُس سے اُس کی حماقت اَور خجالت ظاہر ہوتی ہے۔
14
اِنسان کی رُوح ناتوانی میں اُسے سنبھالتی ہے، لیکن شکستہ رُوح کو کون برداشت کر سَکتا ہے۔
15
صاحبِ فہم کا دِل علم حاصل کرتا ہے؛ اَور دانشمند کے کان اُس کی تلاش میں رہتے ہیں۔
16
آدمی کا نذرانہ اُس کے لیٔے راہ کھول دیتاہے، اَور اُسے بڑے بڑے لوگوں تک پہُنچا دیتاہے۔
17
جو آدمی پہلے اَپنا دعویٰ پیش کرتا ہے وُہی راست مَعلُوم ہوتاہے جَب تک کہ کویٔی اَور آگے آکر اُس سے جرح نہ کرے۔
18
قُرعہ اَندازی سے جھگڑے موقُوف ہو جاتے ہیں اَور اُس سے زورآور فریقوں کو باہم اُلجھنے سے روکا جاتا ہے۔
19
رنجیدہ بھایٔی کو منانا محکم شہر کو لے لینے سے زِیادہ مُشکل ہوتاہے، اَور جھگڑے، قلعہ کی سلاخوں کی مانند ہوتے ہیں۔
20
اِنسان کا پیٹ اُس کے مُنہ کے پھل سے بھرتاہے؛ اَور اَپنے لبوں کی پیداوار سے وہ سیر ہوتاہے۔
21
زبان کو زندگی اَور موت پر قُدرت حاصل ہے، اَورجو اُسے عزیز رکھتے ہیں، اُس کا پھل کھایٔیں گے۔
22
جِس نے بیوی پائی اُس نے گویا تحفہ پا لیا اَور اُس پر یَاہوِہ کا فضل ہُوا۔
23
مُحتاج رحم کی بھیک مانگتاہے، لیکن دولتمند سخت جَواب دیتاہے۔
24
بہت سے دوست رکھنے والا آدمی تباہ و برباد ہو سَکتا ہے، لیکن کویٔی اَیسا دوست بھی ہوتاہے جو بھایٔی سے بھی زِیادہ مَحَبّت دِکھاتا ہے۔
← Chapter 17
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 19 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31