bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
2 Chronicles 25
2 Chronicles 25
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 24
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 26 →
1
امصیاؔہ پچِّیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے اُنتِیس برس یروشلیِم میں سلطنت کی اُس کی ماں کا نام یہُوعدّؔان تھا جو یروشلیِم کی تھی۔
2
اور اُس نے وُہی کِیا جو خُداوند کی نظر میں ٹِھیک ہے پر کامِل دِل سے نہیں۔
3
اور جب وہ سلطنت پر جم گیا تو اُس نے اپنے اُن مُلازِموں کو جِنہوں نے اُس کے باپ بادشاہ کو مار ڈالا تھا قتل کِیا۔
4
پر اُن کی اَولاد کو جان سے نہیں مارا بلکہ اُسی کے مُطابِق کِیا جو مُوسیٰ کی کِتاب تَورَیت میں لِکھا ہے جَیسا خُداوند نے فرمایا کہ بیٹوں کے بدلے باپ دادا نہ مارے جائیں اور نہ باپ دادا کے بدلے بیٹے مارے جائیں بلکہ ہر آدمی اپنے ہی گُناہ کے لِئے مارا جائے۔
5
اِس کے سِوا امصیاؔہ نے یہُوداؔہ کو اِکٹّھا کِیا اور اُن کو اُن کے آبائی خاندانوں کے مُوافِق تمام مُلکِ یہُوداؔہ اور بِنیمِین میں ہزار ہزار کے سرداروں اور سَو سَو کے سرداروں کے نِیچے ٹھہرایا اور اُن میں سے جِن کی عُمر بِیس برس یا اُس سے اُوپر تھی اُن کو شُمار کِیا اور اُن کو تِین لاکھ چُنے ہُوئے مَرد پایا جو جنگ میں جانے کے قابِل اور برچھی اور ڈھال سے کام لے سکتے تھے۔
6
اور اُس نے سَو قِنطار چاندی دے کر اِسرائیل میں سے ایک لاکھ زبردست سُورما نَوکر رکھّے۔
7
لیکن ایک مَردِ خُدا نے اُس کے پاس آ کر کہا اَے بادشاہ اِسرائیل کی فَوج تیرے ساتھ جانے نہ پائے کیونکہ خُداوند اِسرائیل یعنی سب بنی اِفرائِیم کے ساتھ نہیں ہے۔
8
پر اگر تُو جانا ہی چاہتا ہے تو جا اور لڑائی کے لِئے مضبُوط ہو۔ خُدا تُجھے دُشمنوں کے آگے گِرائے گا کیونکہ خُدا میں سنبھالنے اور گِرانے کی طاقت ہے۔
9
امصیاؔہ نے اُس مَردِ خُدا سے کہا لیکن سَو قِنطاروں کے لِئے جو مَیں نے اِسرائیل کے لشکر کو دِئے ہم کیا کریں؟ اُس مَردِ خُدا نے جواب دِیا خُداوند تُجھے اِس سے بُہت زِیادہ دے سکتا ہے۔
10
تب امصیاؔہ نے اُس لشکر کو جو اِفرائِیم میں سے اُس کے پاس آیا تھا جُدا کِیا تاکہ وہ پِھر اپنے گھر جائیں۔ اِس سبب سے اُن کا غُصّہ یہُوداؔہ پر بُہت بھڑکا اور وہ نِہایت غُصّہ میں گھر کو لَوٹے۔
11
اور امصیاؔہ نے حَوصلہ باندھا اور اپنے لوگوں کو لے کر وادیِ شور کو گیا اور بنی شعِیر میں سے دس ہزار کو مار دِیا۔
12
اور دس ہزار کو بنی یہُوداؔہ جِیتا پکڑ کر لے گئے اور اُن کو ایک چٹان کی چوٹی پر پُہنچایا اور اُس چٹان کی چوٹی پر سے اُن کو نِیچے گِرا دِیا اَیسا کہ سب کے سب ٹُکڑے ٹُکڑے ہو گئے۔
13
پر اُس لشکر کے لوگ جِن کو امصیاؔہ نے لَوٹا دِیا تھا کہ اُس کے ساتھ جنگ میں نہ جائیں سامرِیہ سے بَیت حورُوؔن تک یہُوداؔہ کے شہروں پر ٹُوٹ پڑے اور اُن میں سے تِین ہزار جوانوں کو مار ڈالا اور بُہت سی لُوٹ لے گئے۔
14
جب امصیاؔہ ادُومیوں کے قِتال سے لَوٹا تو بنی شعِیر کے دیوتاؤں کو لیتا آیا اور اُن کو نصب کِیا تاکہ وہ اُس کے معبُود ہوں اور اُن کے آگے سِجدہ کِیا اور اُن کے آگے بخُور جلایا۔
15
اِس لِئے خُداوند کا غضب امصیاؔہ پر بھڑکا اور اُس نے ایک نبی کو اُس کے پاس بھیجا جِس نے اُس سے کہا تُو اُن لوگوں کے دیوتاؤں کا طالِب کیوں ہُؤا جِنہوں نے اپنے ہی لوگوں کو تیرے ہاتھ سے نہ چُھڑایا؟
16
وہ اُس سے باتیں کر ہی رہا تھا کہ اُس نے اُس سے کہا کہ کیا ہم نے تُجھے بادشاہ کا مُشِیر بنایا ہے؟ چُپ رہ! تُو کیوں مار کھائے؟ تب وہ نبی یہ کہہ کر چُپ ہو گیا کہ مَیں جانتا ہُوں کہ خُدا کا اِرادہ یہ ہے کہ تُجھے ہلاک کرے اِس لِئے کہ تُو نے یہ کِیا ہے اور میری مشورت نہیں مانی۔
17
تب یہُوداؔہ کے بادشاہ امصیاؔہ نے مشورہ کر کے اِسرائیل کے بادشاہ یُوآس بِن یہُوآؔخز بِن یاہُو کے پاس کہلا بھیجا کہ ذرا آ تو ہم ایک دُوسرے کا مُقابلہ کریں۔
18
سو اِسرائیل کے بادشاہ یہُوآؔس نے یہُوداؔہ کے بادشاہ امصیاؔہ کو کہلا بھیجا کہ لُبناؔن کے اُونٹ کٹارے نے لُبناؔن کے دیودار کو پَیغام بھیجا کہ اپنی بیٹی میرے بیٹے کو بیاہ دے۔ اِتنے میں ایک جنگلی درِندہ جو لُبناؔن میں رہتا تھا گُذرا اور اُس نے اُونٹ کٹارے کو روند ڈالا۔
19
تُو کہتا ہے دیکھ مَیں نے ادُومیوں کو مارا سو تیرے دِل میں گھمنڈ سمایا ہے کہ فخر کرے۔ گھر ہی میں بَیٹھا رہ تُو کیوں اپنے نُقصان کے لِئے دست اندازی کرتا ہے کہ تُو بھی گِرے اور تیرے ساتھ یہُوداؔہ بھی؟
20
لیکن امصیاؔہ نے نہ مانا کیونکہ یہ خُدا کی طرف سے تھا کہ وہ اُن کو اُن کے دُشمنوں کے ہاتھ میں کر دے اِس لِئے کہ وہ ادُومیوں کے معبُودوں کے طالِب ہُوئے تھے۔
21
سو اِسرائیل کا بادشاہ یُوآس چڑھ آیا اور وہ اور شاہِ یہُوداؔہ امصیاؔہ یہُوداؔہ کے بَیت شمس میں ایک دُوسرے کے مُقابِل ہُوئے۔
22
اور یہُوداؔہ نے اِسرائیل کے مُقابلہ میں شِکست کھائی اور اُن میں سے ہر ایک اپنے ڈیرے کو بھاگا۔
23
اور شاہِ اِسرائیل یہُوآؔس نے شاہِ یہُوداؔہ امصیاؔہ بِن یُوآؔس بِن یہُوآؔخز کو بَیت شمس میں پکڑ لِیا اور اُسے یروشلیِم میں لایا اور یروشلیِم کی دِیوار اِفرائِیم کے پھاٹک سے کونے کے پھاٹک تک چار سَو ہاتھ ڈھا دی۔
24
اور سارے سونے اور چاندی اور سب برتنوں کو جو عوبیدادؔوم کے پاس خُدا کے گھر میں مِلے اور شاہی محلّ کے خزانوں اور کفِیلوں کو بھی لے کر سامرِیہ کو لَوٹا۔
25
اور شاہِ یہُوداؔہ امصیاؔہ بِن یُوآؔس شاہِ اِسرائیل یُوآؔس بِن یہُوآؔخز کے مَرنے کے بعد پندرہ برس جِیتا رہا۔
26
اور امصیاؔہ کے باقی کام شرُوع سے آخِر تک کیا وہ یہُوداؔہ اور اِسرائیل کے بادشاہوں کی کِتاب میں قلم بند نہیں ہیں؟
27
اور جب سے امصیاؔہ خُداوند کی پَیروی سے پِھرا تب ہی سے یروشلیِم کے لوگوں نے اُس کے خِلاف سازِش کی۔ سو وہ لکِیس کو بھاگ گیا پر اُنہوں نے لکِیس میں اُس کے پِیچھے لوگ بھیج کر اُسے وہاں قتل کِیا۔
28
اور وہ اُسے گھوڑوں پر لے آئے اور یہُوداؔہ کے شہر میں اُس کے باپ دادا کے ساتھ اُسے دفن کِیا۔
← Chapter 24
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 26 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36