bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
2 Chronicles 28
2 Chronicles 28
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 27
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 29 →
1
آخز بِیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے سولہ برس یروشلیِم میں سلطنت کی اور اُس نے وہ نہ کِیا جو خُداوند کی نظر میں درُست ہے جَیسا اُس کے باپ داؤُد نے کِیا تھا۔
2
بلکہ اِسرائیل کے بادشاہوں کی راہوں پر چلا اور بعلِیم کی ڈھالی ہُوئی مُورتیں بھی بنوائِیں۔
3
اِس کے سِوا اُس نے ہِنُّوؔم کے بیٹے کی وادی میں بخُور جلایا اور اُن قَوموں کے نفرتی دستُوروں کے مُطابِق جِن کو خُداوند نے بنی اِسرائیل کے سامنے سے خارِج کِیا تھا اپنے ہی بیٹوں کو آگ میں جھونکا۔
4
اُس نے اُونچے مقاموں اور پہاڑوں پر اور ہر ایک ہرے درخت کے نِیچے قُربانِیاں کِیں اور بخُور جلایا۔
5
اِس لِئے خُداوند اُس کے خُدا نے اُس کو شاہِ اراؔم کے ہاتھ میں کر دِیا۔ سو اُنہوں نے اُسے مارا اور اُس کے لوگوں میں سے اسِیروں کی بِھیڑ کی بِھیڑ لے گئے اور اُن کو دمِشق میں لائے اور وہ شاہِ اِسرائیل کے ہاتھ میں بھی کر دِیا گیا جِس نے اُسے مارا اور بڑی خُون ریزی کی۔
6
اور فِقح بِن رملیاؔہ نے ایک ہی دِن میں یہُوداؔہ میں سے ایک لاکھ بِیس ہزار کو جو سب کے سب سُورما تھے قتل کِیا کیونکہ اُنہوں نے خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کو چھوڑ دِیا تھا۔
7
اور زِکرؔی نے جو اِفرائِیم کا ایک پہلوان تھا معسیاؔہ شاہزادہ کو اور محلّ کے ناظِم عزریقاؔم کو اور بادشاہ کے وزِیر القانہ کو مار ڈالا۔
8
اور بنی اِسرائیل اپنے بھائیوں میں سے دو لاکھ عَورتوں اور بیٹے بیٹیوں کو اسِیر کر کے لے گئے اور اُن کا بُہت سا مال لُوٹ لِیا اور لُوٹ کو ساؔمرِیہ میں لائے۔
9
لیکن وہاں خُداوند کا ایک نبی تھا جِس کا نام عودِؔد تھا۔ وہ اُس لشکر کے اِستِقبال کو گیا جو سامریہ کو آ رہا تھا اور اُن سے کہنے لگا دیکھو اِس لِئے کہ خُداوند تُمہارے باپ دادا کا خُدا یہُوداؔہ سے ناراض تھا اُس نے اُن کو تُمہارے ہاتھ میں کر دِیا اور تُم نے اُن کو اَیسے طَیش میں قتل کِیا ہے جو آسمان تک پُہنچا۔
10
اور اب تُمہارا اِرادہ ہے کہ بنی یہُوداؔہ اور یروشلیِم کو اپنے غُلام اور لَونڈیاں بنا کر اُن کو دبائے رکھّو لیکن کیا تُمہارے ہی گُناہ جو تُم نے خُداوند اپنے خُدا کے خِلاف کِئے ہیں تُمہارے سر نہیں ہیں؟
11
سو تُم اب میری سُنو اور اُن اسِیروں کو جِن کو تُم نے اپنے بھائیوں میں سے اسِیر کر لِیا ہے آزاد کر کے لَوٹا دو کیونکہ خُداوند کا قہرِ شدِید تُم پر ہے۔
12
تب بنی اِفرائِیم کے سرداروں میں سے عزریاؔہ بِن یہُوحناؔن اور برکیاؔہ بِن مسلّیموؔت اور یحز قیاہ بِن سلُوم اور عماسا بِن خدلی اُن کے سامنے جو جنگ سے آ رہے تھے کھڑے ہو گئے۔
13
اور اُن سے کہا کہ تُم اسِیروں کو یہاں نہیں لانے پاؤ گے کیونکہ جو تُم نے ٹھانا ہے اُس سے ہم خُداوند کے گُنہگار بنیں گے اور ہمارے گُناہ اور خطائیں بڑھ جائیں گی کیونکہ ہماری خطا بڑی ہے اور اِسرائیل پر قہرِ شدِید ہے۔
14
سو اُن ہتھیار بند لوگوں نے اسِیروں اور مالِ غنِیمت کو امِیروں اور ساری جماعت کے آگے چھوڑ دِیا۔
15
اور وہ آدمی جِن کے نام مذکُور ہُوئے اُٹھے اور اسِیروں کو لِیا اور لُوٹ کے مال میں سے اُن سبھوں کو جو اُن میں ننگے تھے لِباس سے آراستہ کِیا اور اُن کو جُوتے پہنائے اور اُن کو کھانے پِینے کو دِیا اور اُن پر تیل ملا اور جِتنے اُن میں کمزور تھے اُن کو گدھوں پر چڑھا کر کھجُور کے درختوں کے شہر یریحُو میں اُن کے بھائیوں کے پاس پُہنچا دِیا تب ساؔمرِیہ کو لَوٹ گئے۔
16
اُس وقت آخز بادشاہ نے اسُور کے بادشاہوں کے پاس کہلا بھیجا کہ اُس کی مدد کریں۔
17
اِس لِئے کہ ادُومیوں نے پِھر چڑھائی کر کے یہُوداؔہ کو مار لِیا اور اسِیروں کو لے گئے تھے۔
18
اور فِلستِیوں نے بھی نشیب کی زمِین کے اور یہُوداؔہ کے جنُوب کے شہروں پر حملہ کر کے بَیت شمس اور ایّالوؔن اور جدِیروؔت کو اور شوکو اور اُس کے دیہات کو اور تِمنہ اور اُس کے دیہات کو اور جِمسُو اور اُس کے دیہات کو بھی لے لِیا تھا اور اُن میں بس گئے تھے۔
19
کیونکہ خُداوند نے شاہِ اِسرائیل آخز کے سبب سے یہُوداؔہ کو پست کِیا اِس لِئے کہ اُس نے یہُوداؔہ میں بے حیائی کی چال چل کر خُداوند کا بڑا گُناہ کِیا تھا۔
20
اور شاہِ اسُور تِلگت پلناؔسر اُس کے پاس آیا پر اُس نے اُس کو تنگ کِیا اور اُس کی کُمک نہ کی۔
21
کیونکہ آخز نے خُداوند کے گھر اور بادشاہ اور سرداروں کے محلّوں سے مال لے کر شاہِ اسُور کو دِیا تَو بھی اُس کی کُچھ مدد نہ ہُوئی۔
22
اور اپنی تنگی کے وقت میں بھی اُس نے یعنی اِسی آخز بادشاہ نے خُداوند کا اَور بھی زِیادہ گُناہ کِیا۔
23
کیونکہ اُس نے دمِشق کے دیوتاؤں کے لِئے جِنہوں نے اُسے مارا تھا قُربانِیاں کِیں اور کہا چُونکہ ارام کے بادشاہوں کے معبُودوں نے اُن کی مدد کی ہے سو مَیں اُن کے لِئے قُربانی کرُوں گا تاکہ وہ میری مدد کریں لیکن وہ اُس کی اور سارے اِسرائیل کی تباہی کا باعِث ہُوئے۔
24
اور آخز نے خُدا کے گھر کے برتنوں کو جمع کِیا اور خُدا کے گھر کے برتنوں کو ٹُکڑے ٹُکڑے کِیا اور خُداوند کے گھر کے دروازوں کو بند کِیا اور اپنے لِئے یروشلیِم کے ہر کونے میں مذبحے بنائے۔
25
اور یہُوداؔہ کے ایک ایک شہر میں غَیر معبُودوں کے آگے بخُور جلانے کے لِئے اُونچے مقام بنائے اور خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کو غُصّہ دِلایا۔
26
اور اُس کے باقی کام اور اُس کے سب طَور طریقے شرُوع سے آخِر تک یہُوداؔہ اور اِسرائیل کے بادشاہوں کی کِتاب میں قلم بند ہیں۔
27
اور آخز اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُنہوں نے اُسے شہر میں یعنی یروشلیِم میں دفن کِیا کیونکہ وہ اُسے اِسرائیل کے بادشاہوں کی قبروں میں نہ لائے اور اُس کا بیٹا حزقیاہ اُس کی جگہ بادشاہ ہُؤا۔
← Chapter 27
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 29 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36