bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
2 Chronicles 30
2 Chronicles 30
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 29
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 31 →
1
اور حِزقیاہ نے سارے اِسرائیل اور یہُوداؔہ کو کہلا بھیجا اور اِفرائِیم اور منسّی کے پاس بھی خط لِکھ بھیجے کہ وہ خُداوند کے گھر میں یروشلیِم کو خُداوند اِسرائیل کے خُدا کے لِئے عِیدِ فَسح کرنے کو آئیں۔
2
کیونکہ بادشاہ اور سرداروں اور یروشلیِم کی ساری جماعت نے دُوسرے مہِینے میں عیدِ فَسح منانے کا مشورہ کر لِیا تھا۔
3
کیونکہ وہ اُس وقت اُسے اِس لِئے نہیں منا سکے کہ کاہِنوں نے کافی تعداد میں اپنے آپ کو پاک نہیں کِیا تھا اور لوگ بھی یروشلیِم میں اِکٹّھے نہیں ہُوئے تھے۔
4
اور یہ بات بادشاہ اور ساری جماعت کی نظر میں اچّھی تھی۔
5
سو اُنہوں نے حُکم جاری کِیا کہ بیرسبع سے دان تک سارے اِسرائیل میں مُنادی کی جائے کہ لوگ یروشلیِم میں آ کر خُداوند اِسرائیل کے خُدا کے لِئے عِیدِ فَسح کریں کیونکہ اُنہوں نے اَیسی بڑی تعداد میں اُس کو نہیں منایا تھا جَیسے لِکھا ہے۔
6
سو ہرکارے بادشاہ اور اُس کے سرداروں سے خط لے کر بادشاہ کے حُکم کے مُوافِق سارے اِسرائیل اور یہُوداؔہ میں پِھرے اور کہتے گئے اَے بنی اِسرائیل ابرہامؔ اور اِضحاقؔ اور اِسرائیل کے خُداوند خُدا کی طرف پِھر رجُوع لاؤ تاکہ وہ تُمہارے باقی لوگوں کی طرف جو اسُور کے بادشاہوں کے ہاتھ سے بچ رہے ہیں پِھر مُتوجِّہ ہو۔
7
اور تُم اپنے باپ دادا اور اپنے بھائیوں کی مانِند مت ہو جِنہوں نے خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کی نافرمانی کی یہاں تک کہ اُس نے اُن کو چھوڑ دِیا کہ برباد ہو جائیں جَیسا تُم دیکھتے ہو۔
8
پس تُم اپنے باپ دادا کی مانِند گردن کش نہ بنو بلکہ خُداوند کے تابِع ہو جاؤ اور اُس کے مَقدِس میں آؤ جِسے اُس نے ہمیشہ کے لِئے مُقدّس کِیا ہے اور خُداوند اپنے خُدا کی عِبادت کرو تاکہ اُس کا قہرِ شدِید تُم پر سے ٹل جائے۔
9
کیونکہ اگر تُم خُداوند کی طرف پِھر رجُوع لاؤ تو تُمہارے بھائی اور تُمہارے بیٹے اپنے اسِیر کرنے والوں کی نظر میں قابِلِ رحم ٹھہریں گے اور اِس مُلک میں پِھر آئیں گے کیونکہ خُداوند تُمہارا خُدا غفُور و رحِیم ہے اور اگر تُم اُس کی طرف پِھرو تو وہ تُم سے اپنا مُنہ پھیر نہ لے گا۔
10
سو ہرکارے اِفرائِیم اور منسّی کے مُلک میں شہر بہ شہر ہوتے ہُوئے زبُولُون تک گئے پر اُنہوں نے اُن کا تمسخُر کِیا اور اُن کو ٹھٹّھوں میں اُڑایا۔
11
پِھر بھی آشر اور منسّی اور زبُولُون میں سے بعض لوگوں نے فروتنی کی اور یروشلیِم کو آئے۔
12
اور یہُوداؔہ پر بھی خُداوند کا ہاتھ تھا کہ اُن کو یکدل بنا دے تاکہ وہ خُداوند کے کلام کے مُطابِق بادشاہ اور سرداروں کے حُکم پر عمل کریں۔
13
سو بُہت سے لوگ یروشلیِم میں جمع ہُوئے کہ دُوسرے مہِینے میں فطِیری روٹی کی عِید کریں۔ یُوں بُہت بڑی جماعت ہو گئی۔
14
اور وہ اُٹھے اور اُن مذبحوں کو جو یروشلیِم میں تھے اور بخُور کی سب قُربان گاہوں کو دُور کِیا اور اُن کو قِدرُوؔن کے نالے میں ڈال دِیا۔
15
پِھر دُوسرے مہِینے کی چَودھوِیں تارِیخ کو اُنہوں نے فَسح کو ذبح کِیا اور کاہِنوں اور لاویوں نے شرمِندہ ہو کر اپنے آپ کو پاک کِیا اور خُداوند کے گھر میں سوختنی قُربانِیاں لائے۔
16
اور وہ اپنے دستُور پر مَردِ خُدا مُوسیٰ کی شرِیعت کے مُطابِق اپنی اپنی جگہ کھڑے ہُوئے اور کاہِنوں نے لاویوں کے ہاتھ سے خُون لے کر چِھڑکا۔
17
کیونکہ جماعت میں بُہتیرے اَیسے تھے جِنہوں نے اپنے آپ کو پاک نہیں کِیا تھا اِس لِئے یہ کام لاویوں کے سپُرد ہُؤا کہ وہ سب ناپاک شخصوں کے لِئے فَسح کے برّوں کو ذبح کریں تاکہ وہ خُداوند کے لِئے مُقدّس ہوں۔
18
کیونکہ اِفرائِیم اور منسّی اور اِشکار اور زبُولُون میں سے بُہت سے لوگوں نے اپنے آپ کو پاک نہیں کِیا تھا تَو بھی اُنہوں نے فَسح کو جِس طرح لِکھا ہے اُس طرح سے نہ کھایا کیونکہ حِزقیاہ نے اُن کے لِئے یہ دُعا کی تھی کہ خُداوند جو نیک ہے ہر ایک کو۔
19
جِس نے خُداوند خُدا اپنے باپ دادا کے خُدا کی طلب میں دِل لگایا ہے مُعاف کرے گو وہ مَقدِس کی طہارت کے مُطابِق پاک نہ ہُؤا ہو۔
20
اور خُداوند نے حِزقیاہ کی سُنی اور لوگوں کو شِفا دی۔
21
اور جو بنی اِسرائیل یروشلیِم میں حاضِر تھے اُنہوں نے بڑی خُوشی سے سات دِن تک عِیدِ فطِیر منائی اور لاوی اور کاہِن بُلند آواز کے باجوں کے ساتھ خُداوند کے حضُور گا گا کر ہر روز خُداوند کی حمد کرتے رہے۔
22
اور حِزقیاہ نے سب لاویوں سے جو خُداوند کی خِدمت میں ماہِر تھے تسلّی بخش باتیں کِیں سو وہ عِید کے ساتوں دِن تک کھاتے اور سلامتی کے ذبِیحوں کی قُربانِیاں چڑھاتے اور خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کے حضُور اِقرار کرتے رہے۔
23
پِھر ساری جماعت نے اَور سات دِن ماننے کا مشورہ کِیا اور خُوشی سے اَور سات دِن مانے۔
24
کیونکہ شاہِ یہُوداؔہ حِزقیاہ نے جماعت کو قُربانِیوں کے لِئے ایک ہزار بچھڑے اور سات ہزار بھیڑیں عِنایت کِیں اور سرداروں نے جماعت کو ایک ہزار بچھڑے اور دس ہزار بھیڑیں دِیں اور بُہت سے کاہِنوں نے اپنے آپ کو پاک کِیا۔
25
اور یہُوداؔہ کی ساری جماعت نے کاہِنوں اور لاویوں سمیت اور اُس ساری جماعت نے جو اِسرائیل میں سے آئی تھی اور اُن پردیسیوں نے جو اِسرائیل کے مُلک سے آئے تھے اور جو یہُوداؔہ میں رہتے تھے خُوشی منائی۔
26
سو یروشلیِم میں بڑی خُوشی ہُوئی کیونکہ شاہِ اِسرائیل سُلیماؔن بِن داؤُد کے زمانہ سے یروشلیِم میں اَیسا نہیں ہُؤا تھا۔
27
تب لاوی کاہِنوں نے اُٹھ کر لوگوں کو برکت دی اور اُن کی سُنی گئی اور اُن کی دُعا اُس کے مُقدّس مکان آسمان تک پُہنچی۔
← Chapter 29
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 31 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36