bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Ezekiel 14
Ezekiel 14
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 13
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 15 →
1
پِھر اِسرائیل کے بزُرگوں میں سے چند آدمی میرے پاس آئے اور میرے سامنے بَیٹھ گئے۔
2
تب خُداوند کا کلام مُجھ پر نازِل ہُؤا
3
کہ اَے آدمؔ زاد اِن مَردوں نے اپنے بُتوں کو اپنے دِل میں نصب کِیا ہے اور اپنی ٹھوکر کِھلانے والی بدکرداری کو اپنے سامنے رکھّا ہے۔ کیا اَیسے لوگ مُجھ سے کُچھ دریافت کر سکتے ہیں؟
4
اِس لِئے تُو اُن سے باتیں کر اور اُن سے کہہ کہ خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ بنی اِسرائیل میں سے ہر ایک جو اپنے بُتوں کو اپنے دِل میں نصب کرتا ہے اور اپنی ٹھوکر کِھلانے والی بدکرداری کو اپنے سامنے رکھتا ہے اور نبی کے پاس آتا ہے مَیں خُداوند اُس کے بُتوں کی کثرت کے مُطابِق اُس کو جواب دُوں گا۔
5
تاکہ مَیں بنی اِسرائیل کو اُن ہی کے خیالات میں پکڑُوں کیونکہ وہ سب کے سب اپنے بُتوں کے سبب سے مُجھ سے دُور ہو گئے ہیں۔
6
اِس لِئے تُو بنی اِسرائیل سے کہہ خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ تَوبہ کرو اور اپنے بُتوں سے باز آؤ اور اپنی تمام مکرُوہات سے مُنہ موڑو۔
7
کیونکہ ہر ایک جو بنی اِسرائیل میں سے یا اُن بے گانوں میں سے جو اِسرائیل میں رہتے ہیں مُجھ سے جُدا ہو جاتا ہے اور اپنے دِل میں اپنے بُت کو نصب کرتا ہے اور اپنی ٹھوکر کِھلانے والی بدکرداری کو اپنے سامنے رکھتا ہے اور نبی کے پاس آتا ہے کہ اُس کی معرفت مُجھ سے دریافت کرے اُس کو مَیں خُداوند آپ ہی جواب دُوں گا۔
8
اور میرا چِہرہ اُس کے خِلاف ہو گا اور مَیں اُس کو باعِثِ حَیرت و انگُشت نُما اور ضرب اُلمثل بناؤُں گا اور اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالُوں گا اور تُم جانو گے کہ مَیں خُداوند ہُوں۔
9
اور اگر نبی فریب کھا کر کُچھ کہے تو مَیں خُداوند نے اُس نبی کو فریب دِیا اور مَیں اپنا ہاتھ اُس پر چلاؤُں گا اور اُسے اپنے اِسرائیلی لوگوں میں سے نابُود کر دُوں گا۔
10
اور وہ اپنی بدکرداری کی سزا کی برداشت کریں گے۔ نبی کی بدکرداری کی سزا وَیسی ہی ہو گی جَیسی سوال کرنے والے کی بدکرداری کی۔
11
تاکہ بنی اِسرائیل پِھر مُجھ سے بھٹک نہ جائیں اور اپنی سب خطاؤں سے پِھر اپنے آپ کو ناپاک نہ کریں بلکہ خُداوند خُدا فرماتا ہے کہ وہ میرے لوگ ہوں اور مَیں اُن کا خُدا ہُوں۔
12
اور خُداوند کا کلام مُجھ پر نازِل ہُؤا
13
کہ اَے آدمؔ زاد جب کوئی مُلک سخت خطا کر کے میرا گُنہگار ہو اور مَیں اپنا ہاتھ اُس پر چلاؤُں اور اُس کی روٹی کا عصا توڑ ڈالُوں اور اُس میں قحط بھیجُوں اور اُس کے اِنسان اور حَیوان کو ہلاک کرُوں۔
14
تو اگرچہ یہ تِین شخص نُوح اور دانی ایل اور ایُّوؔب اُس میں مَوجُود ہوں تَو بھی خُداوند خُدا فرماتا ہے کہ وہ اپنی صداقت سے فقط اپنی ہی جان بچائیں گے۔
15
اگر مَیں کِسی مُلک میں مُہلِک درِندے بھیجُوں کہ اُس میں گشت کر کے اُسے تباہ کریں اور وہ یہاں تک وِیران ہو جائے کہ درِندوں کے سبب سے کوئی اُس میں سے گُذر نہ سکے۔
16
تو خُداوند خُدا فرماتا ہے کہ مُجھے اپنی حیات کی قَسم اگرچہ یہ تِین شخص اُس میں ہوں تَو بھی وہ نہ بیٹوں کو بچا سکیں گے نہ بیٹِیوں کو۔ فقط وہ خُود ہی بچیں گے اور مُلک وِیران ہو جائے گا۔
17
یا اگر مَیں اُس مُلک پر تلوار بھیجُوں اور کہُوں کہ اَے تلوار مُلک میں گُذر کر اور مَیں اُس کے اِنسان اور حَیوان کو کاٹ ڈالُوں۔
18
تو خُداوند خُدا فرماتا ہے کہ مُجھے اپنی حیات کی قَسم اگرچہ یہ تِین شخص اُس میں ہوں تَو بھی نہ بیٹوں کو بچا سکیں گے نہ بیٹِیوں کو بلکہ فقط وہ خُود ہی بچ جائیں گے۔
19
یا اگر مَیں اُس مُلک میں وبا بھیجُوں اور خُون ریزی کرا کر اپنا قہر اُس پر نازِل کرُوں کہ وہاں کے اِنسان اور حَیوان کو کاٹ ڈالُوں۔
20
اگرچہ نُوح اور دانی ایل اور ایُّوؔب اُس میں ہوں تَو بھی خُداوند خُدا فرماتا ہے مُجھے اپنی حیات کی قَسم وہ نہ بیٹے کو بچا سکیں گے نہ بیٹی کو بلکہ اپنی صداقت سے فقط اپنی ہی جان بچائیں گے۔
21
پس خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ جب مَیں اپنی چار بڑی بلائیں یعنی تلوار اور قحط اور مُہلِک درِندے اور وبا یروشلیِم پر بھیجُوں کہ اُس کے اِنسان اور حَیوان کو کاٹ ڈالُوں تو کیا حال ہو گا؟
22
تَو بھی وہاں تھوڑے سے بیٹے بیٹِیاں بچ رہیں گے جو نِکال کر تُمہارے پاس پُہنچائے جائیں گے اور تُم اُن کی روِش اور اُن کے کاموں کو دیکھ کر اُس آفت کی بابت جو مَیں نے یروشلیِم پر بھیجی اور اُن سب آفتوں کی بابت جو مَیں اُس پر لایا ہُوں تسلّی پاؤ گے۔
23
اور وہ بھی جب تُم اُن کی روِش کو اور اُن کے کاموں کو دیکھو گے تُمہاری تسلّی کا باعِث ہوں گے اور تُم جانو گے کہ جو کُچھ مَیں نے اُس میں کِیا ہے بے سبب نہیں کِیا خُداوند خُدا فرماتا ہے۔
← Chapter 13
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 15 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48