bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Ezekiel 34
Ezekiel 34
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 33
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 35 →
1
اور خُداوند کا کلام مُجھ پر نازِل ہُؤا
2
کہ اَے آدمؔ زاد اِسرائیل کے چرواہوں کے خِلاف نُبوّت کر۔ ہاں نبُوّت کر اور اُن سے کہہ خُداوند خُدا چرواہوں کو یُوں فرماتا ہے کہ اِسرائیل کے چرواہوں پر افسوس جو اپنا ہی پیٹ بھرتے ہیں۔ کیا چرواہوں کو مُناسِب نہیں کہ بھیڑوں کو چرائیں؟
3
تُم چِکنائی کھاتے اور اُون پہنتے ہو اور جو فربہ ہیں اُن کو ذبح کرتے ہو لیکن گلّہ نہیں چراتے۔
4
تُم نے کمزوروں کو توانائی اور بِیماروں کو شِفا نہیں دی اور ٹُوٹے ہُوئے کو نہیں باندھا اور وہ جو نِکال دِئے گئے اُن کو واپس نہیں لائے اور گُم شُدہ کی تلاش نہیں کی بلکہ زبردستی اور سختی سے اُن پر حُکُومت کی۔
5
اور وہ تِتّربِتّر ہو گئے کیونکہ کوئی پاسبان نہ تھا اور وہ پراگندہ ہو کر مَیدان کے سب درِندوں کی خُوراک ہُوئے۔
6
میری بھیڑیں تمام پہاڑوں پر اور ہر ایک اُونچے ٹِیلے پر بھٹکتی پِھرتی تِھیں۔ ہاں میری بھیڑیں تمام رُویِ زمِین پر تِتّربِتّر ہو گئِیں اور کِسی نے نہ اُن کو ڈُھونڈا نہ اُن کی تلاش کی۔
7
اِس لِئے اَے پاسبانو خُداوند کا کلام سُنو۔
8
خُداوند خُدا فرماتا ہے مُجھے اپنی حیات کی قَسم چُونکہ میری بھیڑیں شِکار ہو گئِیں ہاں میری بھیڑیں ہر ایک دشتی درِندہ کی خُوراک ہُوئِیں کیونکہ کوئی پاسبان نہ تھا اور میرے پاسبانوں نے میری بھیڑوں کی تلاش نہ کی بلکہ اُنہوں نے اپنا پیٹ بھرا اور میری بھیڑوں کو نہ چرایا۔
9
اِس لِئے اَے پاسبانو خُداوند کا کلام سُنو۔
10
خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ دیکھ مَیں چرواہوں کا مُخالِف ہُوں اور اپنا گلّہ اُن کے ہاتھ سے طلب کرُوں گا اور اُن کو گلّہ بانی سے معزُول کرُوں گا اور چرواہے آیندہ کو اپنا پیٹ نہ بھر سکیں گے کیونکہ مَیں اپنا گلّہ اُن کے مُنہ سے چُھڑا لُوں گا تاکہ وہ اُن کی خُوراک نہ ہو۔
11
کیونکہ خُداوند خُدا فرماتا ہے دیکھ مَیں خُود اپنی بھیڑوں کی تلاش کرُوں گا اور اُن کو ڈُھونڈ نِکالُوں گا۔
12
جِس طرح چرواہا اپنے گلّہ کی تلاش کرتا ہے جب کہ وہ اپنی بھیڑوں کے درمِیان ہو جو پراگندہ ہو گئی ہیں اُسی طرح مَیں اپنی بھیڑوں کو ڈُھونڈوں گا اور اُن کو ہر جگہ سے جہاں وہ ابر اور تارِیکی کے دِن تِتّربِتّر ہو گئی ہیں چُھڑا لاؤُں گا۔
13
اور مَیں اُن کو سب اُمّتوں کے درمِیان سے واپس لاؤُں گا اور سب مُلکوں میں سے فراہم کرُوں گا اور اُن ہی کے مُلک میں پُہنچاؤُں گا اور اِسرائیل کے پہاڑوں پر نہروں کے کنارے اور زمِین کے تمام آباد مکانوں میں چراؤُں گا۔
14
اور اُن کو اچّھی چراگاہ میں چراؤُں گا اور اُن کی آرام گاہ اِسرائیل کے اُونچے پہاڑوں پر ہو گی۔ وہاں وہ عُمدہ آرام گاہ میں لیٹیں گی اور ہری چراگاہ میں اِسرائیل کے پہاڑوں پر چریں گی۔
15
مَیں ہی اپنے گلّہ کو چراؤُں گا اور اُن کو لِٹاؤُں گا خُداوند خُدا فرماتا ہے۔
16
مَیں گُم شُدہ کی تلاش کرُوں گا اور خارِج شُدہ کو واپس لاؤُں گا اور شِکستہ کو باندُھوں گا اور بِیماروں کو تقوِیّت دُوں گا لیکن موٹوں اور زبردستوں کو ہلاک کرُوں گا۔ مَیں اُن کو سیاست کا کھانا کھِلاؤُں گا۔
17
اور تُمہارے حق میں خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے اَے میری بھیڑو دیکھو مَیں بھیڑ بکرِیوں اور مینڈھوں اور بکروں کے درمِیان اِمتِیاز کر کے اِنصاف کرُوں گا۔
18
کیا تُم کو یہ ہلکی سی بات معلُوم ہُوئی کہ تُم اچّھا سبزہ زار کھا جاؤ اور باقی ماندہ کو پاؤں سے لتاڑو اور صاف پانی میں سے پِیو اور باقی ماندہ کو پاؤں سے گدلا کرو؟
19
اور جو تُم نے پاؤں سے لتاڑا ہے وہ میری بھیڑیں کھاتی ہیں اور جو تُم نے پاؤں سے گدلا کِیا پِیتی ہیں۔
20
اِس لِئے خُداوند خُدا اُن کو یُوں فرماتا ہے کہ دیکھو مَیں ہاں مَیں موٹی اور دُبلی بھیڑوں کے درمِیان اِنصاف کرُوں گا۔
21
چُونکہ تُم نے پہلُو اور کندھے سے دھکیلا ہے اور تمام بِیماروں کو اپنے سِینگوں سے ریلا ہے یہاں تک کہ وہ تِتّربِتّر ہُوئے۔
22
اِس لِئے مَیں اپنے گلّہ کو بچاؤُں گا۔ وہ پِھر کبھی شِکار نہ ہوں گے اور مَیں بھیڑ بکرِیوں کے درمیان اِنصاف کرُوں گا۔
23
اور مَیں اُن کے لِئے ایک چَوپان مُقرّر کرُوں گا اور وہ اُن کو چرائے گا یعنی میرا بندہ داؤُد۔ وہ اُن کو چرائے گا اور وُہی اُن کا چَوپان ہو گا۔
24
اور مَیں خُداوند اُن کا خُدا ہُوں گا اور میرا بندہ داؤُد اُن کے درمِیان فرمانروا ہو گا۔ مَیں خُداوند نے یُوں فرمایا ہے۔
25
اور مَیں اُن کے ساتھ صُلح کا عہد باندُھوں گا اور سب بُرے درِندوں کو مُلک سے نابُود کرُوں گا اور وہ بیابان میں سلامتی سے رہا کریں گے اور جنگلوں میں سوئیں گے۔
26
اور مَیں اُن کو اور اُن جگہوں کو جو میرے پہاڑ کے آس پاس ہیں برکت کا باعِث بناؤُں گا اور مَیں بر وقت مِینہہ برساؤُں گا۔ برکت کی بارِش ہو گی۔
27
اور مَیدان کے درخت اپنا میوہ دیں گے اور زمِین اپنا حاصِل دے گی اور وہ سلامتی کے ساتھ اپنے مُلک میں بسیں گے اور جب مَیں اُن کے جُوئے کا بندھن توڑُوں گا اور اُن کے ہاتھ سے جو اُن سے خِدمت کرواتے ہیں چُھڑاؤُں گا تو وہ جانیں گے کہ مَیں خُداوند ہُوں۔
28
اور وہ آگے کو قَوموں کا شِکار نہ ہوں گے اور زمِین کے درِندے اُن کو نِگل نہ سکیں گے بلکہ وہ امن سے بسیں گے اور اُن کو کوئی نہ ڈرائے گا۔
29
اور مَیں اُن کے لِئے ایک نامور پَودا برپا کرُوں گا اور وہ پِھر کبھی اپنے مُلک میں قحط سے ہلاک نہ ہوں گے اور آگے کو قَوموں کا طعنہ نہ اُٹھائیں گے۔
30
اور وہ جانیں گے کہ مَیں خُداوند اُن کا خُدا اُن کے ساتھ ہُوں اور وہ یعنی بنی اِسرائیل میرے لوگ ہیں خُداوند خُدا فرماتا ہے۔
31
اور تُم اَے میری بھیڑو میری چراگاہ کی بھیڑو اِنسان ہو اور مَیں تُمہارا خُدا ہُوں خُداوند خُدا فرماتا ہے۔
← Chapter 33
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 35 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48