bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Ezekiel 3
Ezekiel 3
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 2
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 4 →
1
پِھر اُس نے مُجھے کہا اَے آدمؔ زاد جو کُچھ تُو نے پایا سو کھا۔ اِس طُومار کو نِگل جا اور جا کر اِسرائیل کے خاندان سے کلام کر۔
2
تب مَیں نے مُنہ کھولا اور اُس نے وہ طُومار مُجھے کھِلایا۔
3
پِھر اُس نے مُجھے کہا اَے آدمؔ زاد اِس طُومار کو جو مَیں تُجھے دیتا ہُوں کھا جا اور اُس سے اپنا پیٹ بھر لے۔ تب مَیں نے کھایا اور وہ میرے مُنہ میں شہد کی مانِند مِیٹھا تھا۔
4
پِھر اُس نے مُجھے فرمایا اَے آدمؔ زاد تُو بنی اِسرائیل کے پاس جا اور میری یہ باتیں اُن سے کہہ۔
5
کیونکہ تُو ایسے لوگوں کی طرف نہیں بھیجا جاتا جِن کی زُبان بے گانہ اور جِن کی بولی سخت ہے بلکہ اِسرائیل کے خاندان کے طرف۔
6
نہ بُہت سی اُمّتوں کی طرف جِن کی زُبان بے گانہ اور جِن کی بولی سخت ہے۔ جِن کی بات تُو سمجھ نہیں سکتا۔ یقِیناً اگر مَیں تُجھے اُن کے پاس بھیجتا تو وہ تیری سُنتِیں۔
7
لیکن بنی اِسرائیل تیری بات نہ سُنیں گے کیونکہ وہ میری سُننا نہیں چاہتے کیونکہ سب بنی اِسرائیل سخت پیشانی اور سنگ دِل ہیں۔
8
دیکھ مَیں نے اُن کے چِہروں کے مُقابِل تیرا چِہرہ درُشت کِیا ہے اور تیری پیشانی اُن کی پیشانِیوں کے مُقابِل سخت کر دی ہے۔
9
مَیں نے تیری پیشانی کو ہِیرے کی مانِند چقماق سے بھی زِیادہ سخت کر دِیا ہے۔ اُن سے نہ ڈر اور اُن کے چِہروں سے ہِراسان نہ ہو اگرچہ وہ باغی خاندان ہیں۔
10
پِھر اُس نے مُجھ سے کہا اَے آدمؔ زاد میری سب باتوں کو جو مَیں تُجھ سے کہُوں گا اپنے دِل سے قبُول کر اور اپنے کانوں سے سُن۔
11
اب اُٹھ اسِیروں یعنی اپنی قَوم کے لوگوں کے پاس جا اور اُن سے کہہ خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے خواہ وہ سُنیں خواہ نہ سُنیں۔
12
اور رُوح نے مُجھے اُٹھا لِیا اور مَیں نے اپنے پِیچھے ایک بڑی کڑک کی آواز سُنی جو کہتی تھی کہ خُداوند کا جلال اُس کے مسکن سے مُبارک ہو۔
13
اور جان داروں کے پروں کے ایک دُوسرے سے لگنے کی آواز اور اُن کے مُقابِل پہیوں کی آواز اور ایک بڑے دھڑاکے کی آواز سُنائی دی۔
14
اور رُوح مُجھے اُٹھا کر لے گئی۔ سو مَیں تلخ دِل اور غضب ناک ہو کر روانہ ہُؤا اور خُداوند کا ہاتھ مُجھ پر غالِب تھا۔
15
اور مَیں تل ابِیبؔ میں اسِیروں کے پاس جو نہرِ کبار کے کنارے بستے تھے پُہنچا اور جہاں وہ رہتے تھے مَیں سات دِن تک اُن کے درمِیان پریشان بَیٹھا رہا۔
16
اور سات دِن کے بعد خُداوند کا کلام مُجھ پر نازِل ہُؤا
17
کہ اَے آدمؔ زاد مَیں نے تُجھے بنی اِسرائیل کا نِگہبان مُقرّر کِیا۔ پس تُو میرے مُنہ کا کلام سُن اور میری طرف سے اُن کو آگاہ کر دے۔
18
جب مَیں شرِیر سے کہُوں کہ تُو یقِیناً مَرے گا اور تُو اُسے آگاہ نہ کرے اور شرِیر سے نہ کہے کہ وہ اپنی بُری روِش سے خبردار ہو تاکہ وہ اُس سے باز آ کر اپنی جان بچائے تو وہ شرِیر اپنی شرارت میں مَرے گا لیکن مَیں اُس کے خُون کی بازپُرس تُجھ سے کرُوں گا۔
19
لیکن اگر تُو نے شرِیر کو آگاہ کر دِیا اور وہ اپنی شرارت اور اپنی بُری روِش سے باز نہ آیا تو وہ اپنی بدکرداری میں مَرے گا پر تُو نے اپنی جان کو بچا لِیا۔
20
اور اگر راست باز اپنی راست بازی چھوڑ دے اور گُناہ کرے اور مَیں اُس کے آگے ٹھوکر کِھلانے والا پتّھر رکُھّوں تو وہ مَر جائے گا۔ اِس لِئے کہ تُو نے اُسے آگاہ نہیں کِیا تو وہ اپنے گُناہ میں مَرے گا اور اُس کی صداقت کے کاموں کا لِحاظ نہ کِیا جائے گا پر مَیں اُس کے خُون کی بازپُرس تُجھ سے کرُوں گا۔
21
لیکن اگر تُو اُس راست باز کو آگاہ کر دے تاکہ گُناہ نہ کرے اور وہ گُناہ سے باز رہے تو وہ یقِیناً جِئے گا اِس لِئے کہ نصِیحت پذِیر ہُؤا اور تُو نے اپنی جان بچا لی۔
22
اور وہاں خُداوند کا ہاتھ مُجھ پر تھا اور اُس نے مُجھے فرمایا اُٹھ مَیدان میں نِکل جا اور وہاں مَیں تُجھ سے باتیں کرُوں گا۔
23
تب مَیں اُٹھ کر مَیدان میں گیا اور کیا دیکھتا ہُوں کہ خُداوند کا جلال اُس شَوکت کی مانِند جو مَیں نے نہرِ کبار کے کنارے دیکھی تھی کھڑا ہے اور مَیں مُنہ کے بل گِرا۔
24
تب رُوح مُجھ مَیں داخِل ہُوئی اور اُس نے مُجھے میرے پاؤں پر کھڑا کِیا اور مُجھ سے ہم کلام ہو کر فرمایا کہ اپنے گھر جا اور دروازہ بند کر کے اندر بَیٹھ رہ۔
25
اور اَے آدمؔ زاد دیکھ وہ تُجھ پر بندھن ڈالیں گے اور اُن سے تُجھے باندھیں گے اور تُو اُن کے درمِیان باہر نہ جائے گا۔
26
اور مَیں تیری زُبان تیرے تالُو سے چِپکا دُوں گا کہ تُو گُونگا ہو جائے اور اُن کے لِئے نصِیحت گو نہ ہو کیونکہ وہ باغی خاندان ہیں۔
27
لیکن جب مَیں تُجھ سے ہم کلام ہُوں گا تو تیرا مُنہ کھولُوں گا تب تُو اُن سے کہے گا کہ خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے جو سُنتا ہے سُنے اور جو نہیں سُنتا نہ سُنے کیونکہ وہ باغی خاندان ہیں۔
← Chapter 2
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 4 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
Recommended Reading
Commentary
Ezekiel Commentaries
→
Devotional
Ezekiel Devotional Guide
→
Get This Bible
URD (کِتابِ مُقادّس) Study Bible
→