bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Ezekiel 17
Ezekiel 17
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 16
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 18 →
1
اور خُداوند کا کلام مُجھ پر نازِل ہُؤا
2
کہ اَے آدمؔ زاد ایک پہیلی نِکال اور اہلِ اِسرائیل سے ایک تمثِیل بیان کر۔
3
اور کہہ خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ ایک بڑا عُقاب جو بڑے بازُو اور لمبے پر رکھتا تھا اپنے رنگا رنگ کے بال و پر میں چِھپا ہُؤا لُبناؔن میں آیا اور اُس نے دیودار کی چوٹی توڑ لی۔
4
وہ سب سے اُونچی ڈالی توڑ کر سَوداگری کے مُلک میں لے گیا اور سَوداگروں کے شہر میں اُسے لگایا۔
5
اور وہ اُس سرزمِین میں سے بِیج لے گیا اور اُسے زرخیز زمِین میں بویا۔ اُس نے اُسے آبِ فراوان کے کنارے بید کے درخت کی طرح لگایا۔
6
اور وہ اُگا اور انگُور کا ایک پست قد شاخ دار درخت ہو گیا اور اُس کی شاخیں اُس کی طرف جُھکی تھِیں اور اُس کی جڑیں اُس کے نِیچے تھِیں چُنانچہ وہ انگُور کا ایک درخت ہُؤا۔ اُس کی شاخیں نِکلِیں اور اُس کی کونپلیں بڑھِیں۔
7
اور ایک اَور بڑا عُقاب تھا جِس کے بازُو بڑے بڑے اور پر و بال بُہت تھے اور اِس تاک نے اپنی جڑیں اُس کی طرف جُھکائِیں اور اپنی کیارِیوں سے اپنی شاخیں اُس کی طرف بڑھائِیں تاکہ وہ اُسے سِینچے۔
8
یہ آبِ فراوان کے کنارے زرخیز زمِین میں لگائی گئی تھی تاکہ اِس کی شاخیں نِکلیں اور اِس میں پَھل لگیں اور یہ نفِیس تاک ہو۔
9
تُو کہہ خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ کیا یہ برومند ہو گی؟ کیا وہ اِس کو اُکھاڑ نہ ڈالے گا؟ اور اِس کا پَھل نہ توڑ ڈالے گا کہ یہ خُشک ہو جائے اور اِس کے سب تازہ پتّے مُرجھا جائیں؟ اِسے جڑ سے اُکھاڑنے کے لِئے بُہت طاقت اور بُہت سے آدمِیوں کی ضرُورت نہ ہو گی۔
10
دیکھ یہ لگائی تو گئی پر کیا یہ برومند ہو گی؟ کیا یہ پُوربی ہوا لگتے ہی بِالکُل سُوکھ نہ جائے گی؟ یہ اپنی کیارِیوں ہی میں پژمُردہ ہو جائے گی۔
11
اور خُداوند کا کلام مُجھ پر نازِل ہُؤا
12
کہ اِس باغی خاندان سے کہہ کیا تُم اِن باتوں کا مطلب نہیں جانتے؟ اِن سے کہہ دیکھو شاہِ بابل نے یروشلیِم پر چڑھائی کی اور اُس کے بادشاہ کو اور اُس کے اُمرا کو اسِیر کر کے اپنے ساتھ بابل کو لے گیا۔
13
اور اُس نے شاہی نسل میں سے ایک کو لِیا اور اُس کے ساتھ عہد باندھا اور اُس سے قَسم لی اور مُلک کے بہادُروں کو بھی لے گیا۔
14
تاکہ وہ مُملکت پست ہو جائے اور پِھر سر نہ اُٹھا سکے بلکہ اُس کے عہد کو قائِم رکھنے سے قائِم رہے۔
15
لیکن اُس نے بُہت سے آدمی اور گھوڑے لینے کے لِئے مِصرؔ میں ایلچی بھیج کر اُس سے سرکشی کی۔ کیا وہ کامیاب ہو گا؟ کیا اَیسے کام کرنے والا بچ سکتا ہے؟ کیا وہ عہد شِکنی کر کے بھی بچ جائے گا؟
16
خُداوند خُدا فرماتا ہے کہ مُجھے اپنی حیات کی قَسم وہ اُسی جگہ جہاں اُس بادشاہ کا مسکن ہے جِس نے اُسے بادشاہ بنایا اور جِس کی قَسم کو اُس نے حقِیر جانا اور جِس کا عہد اُس نے توڑا یعنی بابل میں اُسی کے پاس مَرے گا۔
17
اور فرِعونؔ اپنے بڑے لشکر اور بُہت سے لوگوں کو لے کر لڑائی میں اُس کے ساتھ شرِیک نہ ہو گا جب دمدمہ باندھتے ہوں اور بُرج بناتے ہوں کہ بُہت سے لوگوں کو قتل کریں۔
18
چُونکہ اُس نے قَسم کو حقِیر جانا اور اُس عہد کو توڑا اور ہاتھ پر ہاتھ مار کر بھی یہ سب کُچھ کِیا اِس لِئے وہ بچ نہ سکے گا۔
19
پس خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ مُجھے اپنی حیات کی قَسم وہ میری ہی قَسم ہے جِس کو اُس نے حقِیر جانا اور وہ میرا ہی عہد ہے جو اُس نے توڑا۔ مَیں ضرُور یہ اُس کے سر پر لاؤُں گا۔
20
اور مَیں اپنا جال اُس پر پَھیلاؤُں گا اور وہ میرے پھندے میں پکڑا جائے گا اور مَیں اُسے بابل کو لے آؤُں گا اور جو میرا گُناہ اُس نے کِیا ہے اُس کی بابت مَیں وہاں اُس سے حُجّت کرُوں گا۔
21
اور اُس کے لشکر کے سب فراری تلوار سے قتل ہوں گے اور جو بچ رہیں گے وہ چاروں طرف پراگندہ ہو جائیں گے اور تُم جانو گے کہ مَیں خُداوند نے یہ فرمایا ہے۔
22
خُداوند خُدا فرماتا ہے مَیں بھی دیودار کی بُلند چوٹی لُوں گا اور اُسے لگاؤُں گا۔ پِھر اُس کی نرم شاخوں میں سے ایک کونپل کاٹ لُوں گا اور اُسے ایک اُونچے اور بُلند پہاڑ پر لگاؤُں گا۔
23
مَیں اُسے اِسرائیل کے اُونچے پہاڑ پر لگاؤُں گا اور وہ شاخیں نِکالے گا اور پَھل لائے گا اور عالِیشان دیودار ہو گا اور ہر قِسم کے پرِندے اُس کے نِیچے بسیں گے۔ وہ اُس کی ڈالِیوں کے سایہ میں بسیرا کریں گے۔
24
اور مَیدان کے سب درخت جانیں گے کہ مَیں خُداوند نے بڑے درخت کو پست کِیا اور چھوٹے درخت کو بُلند کِیا۔ ہرے درخت کو سُکھا دِیا اور سُوکھے درخت کو ہرا کِیا۔ مَیں خُداوند نے فرمایا اور کر دِکھایا۔
← Chapter 16
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 18 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48