bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Ezekiel 22
Ezekiel 22
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 21
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 23 →
1
پِھر خُداوند کا کلام مُجھ پر نازِل ہُؤا
2
کہ اَے آدمؔ زاد کیا تُو اِلزام نہ لگائے گا؟ کیا تُو اِس خُونی شہر کو مُلزم نہ ٹھہرائے گا؟ تُو اِس کے سب نفرتی کام اِس کو دِکھا۔
3
اور کہہ خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ اَے شہر تُو اپنے اندر خُون ریزی کرتا ہے تاکہ تیرا وقت آ جائے اور تُو اپنے واسطے بُتوں کو اپنے ناپاک کرنے کے لِئے بناتا ہے۔
4
تُو اُس خُون کے سبب سے جو تُو نے بہایا مُجرِم ٹھہرا اور تُو بُتوں کے باعِث جِن کو تُو نے بنایا ہے ناپاک ہُؤا۔ تُو اپنے وقت کو نزدِیک لاتا ہے اور اپنے ایّام کے خاتِمہ تک پُہنچا ہے اِس لِئے مَیں نے تُجھے اقوام کی ملامت کا نِشانہ اور مُمالِک کا ٹھٹّھا بنایا ہے۔
5
تُجھ سے دُور و نزدِیک کے سب لوگ تیری ہنسی اُڑائیں گے کیونکہ تُو فسادی اور بدنام مشہُور ہے۔
6
دیکھ اِسرائیل کے اُمرا سب کے سب جو تُجھ میں ہیں مقدُور بھر خُون ریزی پر مُستعِد تھے۔
7
تیرے اندر اُنہوں نے ماں باپ کو حقِیر جانا ہے۔ تیرے اندر اُنہوں نے پردیسِیوں پر ظُلم کِیا۔ تیرے اندر اُنہوں نے یتِیموں اور بیواؤں پر سِتم کِیا ہے۔
8
تُو نے میری پاک چِیزوں کو ناچِیز جانا اور میرے سبتوں کو ناپاک کِیا۔
9
تیرے اندر وہ لوگ ہیں جو چُغل خوری کر کے خُون کرواتے ہیں اور تیرے اندر وہ ہیں جو بُتوں کی قُربانی سے کھاتے ہیں۔ تیرے اندر وہ ہیں جو فِسق و فجُور کرتے ہیں۔
10
تیرے اندر وہ بھی ہیں جِنہوں نے اپنے باپ کی حرم شِکنی کی تُجھ میں اُنہوں نے اُس عَورت سے جو ناپاکی کی حالت میں تھی مُباشرت کی۔
11
کِسی نے دُوسرے کی بِیوی سے بدکاری کی اور کِسی نے اپنی بہُو سے بدذاتی کی اور کِسی نے اپنی بہن اپنے باپ کی بیٹی کو تیرے اندر رُسوا کِیا۔
12
تیرے اندر اُنہوں نے خُون ریزی کے لِئے رِشوت خواری کی۔ تُو نے بیاج اور سُود لِیا اور ظُلم کر کے اپنے پڑوسی کو لُوٹا اور مُجھے فراموش کِیا خُداوند خُدا فرماتا ہے۔
13
دیکھ تیرے ناروا نفع کے سبب سے جو تُو نے لِیا اور تیری خُون ریزی کے باعِث جو تیرے اندر ہُوئی مَیں نے تالی بجائی۔
14
کیا تیرا دِل برداشت کرے گا اور تیرے ہاتھوں میں زور ہو گا جب مَیں تیرا مُعاملہ فَیصل کرُوں گا؟ مَیں خُداوند نے فرمایا اور مَیں ہی کر دِکھاؤُں گا۔
15
ہاں مَیں تُجھ کو قَوموں میں پراگندہ اور مُلکوں میں تِتّربِتّر کرُوں گا اور تیری گندگی تُجھ میں سے نابُود کر دُوں گا۔
16
اور تُو قَوموں کے سامنے اپنے آپ میں ناپاک ٹھہرے گا اور معلُوم کرے گا کہ مَیں خُداوند ہُوں۔
17
اور خُداوند کا کلام مُجھ پر نازِل ہُؤا
18
کہ اَے آدمؔ زاد بنی اِسرائیل میرے لِئے مَیل ہو گئے ہیں۔ وہ سب کے سب پِیتل اور رانگا اور لوہا اور سِیسا ہیں جو بھٹّی میں ہیں۔ وہ چاندی کی مَیل ہیں۔
19
اِس لِئے خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ چُونکہ تُم سب مَیل ہو گئے ہو اِس لِئے دیکھو مَیں تُم کو یروشلیِم میں جمع کرُوں گا۔
20
جِس طرح لوگ چاندی اور پِیتل اور لوہا اور سِیسا اور رانگابھٹّی میں جمع کرتے ہیں اور اُن پر دَھونکتے ہیں تاکہ اُن کو پِگھلا ڈالیں اُسی طرح مَیں اپنے قہر اور اپنے غضب میں تُم کو جمع کرُوں گا اور تُم کو وہاں رکھ کر پِگھلاؤُں گا۔
21
ہاں مَیں تُم کو اِکٹّھا کرُوں گا اور اپنے غضب کی آگ تُم پر دَھونکُوں گا اور تُم کو اُس میں پِگھلا ڈالُوں گا۔
22
جِس طرح چاندی بھٹّی میں پِگھلائی جاتی ہے اُسی طرح تُم اُس میں پِگھلائے جاؤ گے اور تُم جانو گے کہ مَیں خُداوند نے اپنا قہر تُم پر نازِل کِیا ہے۔
23
اور خُداوند کا کلام مُجھ پر نازِل ہُؤا
24
کہ اَے آدمؔ زاد اُس سے کہہ تُو وہ سرزمِین ہے جو پاک نہیں کی گئی اور جِس پر غضب کے دِن میں بارِش نہیں ہُوئی۔
25
جِس میں اُس کے نبِیوں نے سازِش کی ہے۔ شِکار کو پھاڑتے ہُوئے گرجنے والے شیرِ بَبر کی مانِند وہ جانوں کو کھا گئے ہیں۔ وہ مال اور قِیمتی چِیزوں کو چِھین لیتے ہیں۔ اُنہوں نے اُس میں بُہت سی عَورتوں کو بیوہ بنا دِیا ہے۔
26
اُس کے کاہِنوں نے میری شرِیعت کو توڑا اور میری مُقدّس چِیزوں کو ناپاک کِیا ہے۔ اُنہوں نے مُقدّس اور عام میں کُچھ فرق نہیں رکھّا اور نِجس و طاہِر میں اِمتِیاز کی تعلِیم نہیں دی اور میرے سبتوں کو نِگاہ میں نہیں رکھّا اور مَیں اُن میں بے عِزّت ہُؤا۔
27
اُس کے اُمرا اُس میں شِکار کو پھاڑنے والے بھیڑِیوں کی مانِند ہیں جو ناجائِز نفع کی خاطِر خُون ریزی کرتے اور جانوں کو ہلاک کرتے ہیں۔
28
اور اُس کے نبی اُن کے لِئے کچّی کہگِل کرتے ہیں۔ باطِل رویا دیکھتے اور جُھوٹی فال گِیری کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے حالانکہ خُداوند نے نہیں فرمایا۔
29
اِس مُلک کے لوگوں نے سِتم گری اور لُوٹ مار کی ہے اور غرِیب اور مُحتاج کو ستایا ہے اور پردیسِیوں پر ناحق سختی کی ہے۔
30
مَیں نے اُن کے درمِیان تلاش کی کہ کوئی اَیسا آدمی مِلے جو فصِیل بنائے اور اُس سرزمِین کے لِئے اُس کے رخنہ میں میرے سامنے کھڑا ہو تاکہ مَیں اُسے وِیران نہ کرُوں پر کوئی نہ مِلا۔
31
پس مَیں نے اپنا قہر اُن پر نازِل کِیا اور اپنے غضب کی آگ سے اُن کو فنا کر دِیا اور مَیں اُن کی روِش کو اُن کے سروں پر لایا خُداوند خُدا فرماتا ہے۔
← Chapter 21
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 23 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48