bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
Ezekiel 12
Ezekiel 12
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 11
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 13 →
1
یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
2
”اَے آدَمزاد، تُو ایک سرکش قوم کے درمیان رہتاہے جِن کے پاس دیکھنے کے لیٔے آنکھیں تو ہیں لیکن وہ نہیں دیکھتے اَور سُننے کے لیٔے کان ہیں لیکن وہ نہیں سُنتے کیونکہ وہ ایک سرکش قوم ہیں۔
3
”اِس لیٔے اَے آدمؔ زاد، جَلاوطنی کے لیٔے اَپنا اَسباب باندھ لے اَور دِن کے وقت اُن کے دیکھتے دیکھتے اَپنا مقام چھوڑکر دُوسرے مقام کو چلا جاتا کہ شاید وہ سمجھ جایٔیں، حالانکہ وہ ایک سرکش خاندان ہیں۔
4
دِن کے وقت جَب کہ وہ دیکھ رہے ہوں گے جَلاوطنی کے لیٔے تیّار کیا ہُوا اَپنا سامان باہر لانا اَور شام کو جَب کہ وہ دیکھ رہے ہوں گے جَلاوطنوں کی طرح باہر نکل جانا۔
5
اُن کے دیکھتے ہُوئے دیوار میں چھید کرکے اَپنا اَسباب اُس میں سے باہر نکال لینا
6
اَور اُن کے سامنے اُسے اَپنے کندھے پر رکھ کر اَندھیرے میں روانہ ہو جانا۔ اَپنا چہرہ چھُپا لینا تاکہ تُو زمین کو نہ دیکھ پایٔے کیونکہ مَیں نے تُجھے بنی اِسرائیل کے لیٔے ایک نِشان ٹھہرایا ہے۔“
7
چنانچہ مَیں نے وَیسا ہی کیا جَیسا مُجھے حُکم ہُوا تھا۔ دِن کے وقت مَیں نے اَپنا سامان باہر نکالا جسے مَیں نے جَلاوطنی کے لیٔے تیّار کیا تھا۔ پھر شام کو اَپنے ہاتھوں سے دیوار میں چھید کیا اَور تاریکی میں اَپنی ساری چیزیں باہر نکال لیں اَور اُن کے دیکھتے ہُوئے اُنہیں اَپنے کندھے پر اُٹھائے ہُوئے چل دیا۔
8
صُبح کو یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
9
”اَے آدمؔ زاد، کیا اِس سرکش بنی اِسرائیل نے تُجھ سے نہیں پُوچھا، ’تُو کیا کر رہاہے؟‘
10
”اُن سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: یہ نبُوّت یروشلیمؔ کے حاکم اَور تمام بنی اِسرائیل کے لیٔے ہے جو وہاں رہتے ہیں۔‘
11
اُن سے کہہ، ’مَیں تمہارے لیٔے ایک نِشان ہُوں۔‘ ”جَیسا مَیں نے کیا ہے وَیسا ہی اُن کے ساتھ ہوگا۔ وہ اسیر ہوکر جَلاوطن کئے جایٔیں گے۔
12
”اُن میں جو حاکم ہے وہ اَندھیرے میں اَپنا اَسباب کندھے پر لیٔے ہُوئے نکلے گا اَور دیوار میں سوراخ کیا جائے گا تاکہ وہ اُس میں سے نکل سکے۔ وہ اَپنا چہرہ ڈھانپ لے گا تاکہ زمین کو نہ دیکھ سکے۔
13
میں اُس کے لیٔے اَپنا جال بچھاؤں گا اَور وہ میرے پھندے میں پھنس جائے گا۔ میں اُسے کَسدیوں کے مُلک بابیل میں لاؤں گا لیکن وہ اُسے دیکھ نہ پایٔےگا حالانکہ وہاں ہی وفات پایٔےگا۔
14
میں اُس کے اِردگرد کے سَب لوگوں یعنی اُس کے مُلازمین اَور فَوجیوں کو ہر طرف بِکھیر دُوں گا اَور مَیں تلوار کھینچ کر اُن کا تعاقب کروں گا۔
15
”جَب مَیں اُنہیں مُختلف قوموں میں پھیلا دُوں گا اَور مُختلف مُلکوں میں بِکھیر دُوں گا تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
16
لیکن اُن میں سے چند لوگوں کو میں تلوار، قحط اَور وَبا سے بچائے رکھوں گا تاکہ جِن قوموں میں وہ جایٔیں وہاں وہ اَپنی مکرُوہ حرکتوں کا اعتراف کریں۔ تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔“
17
یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
18
”اَے آدمؔ زاد، جَب تُو کھانا کھائے تو کانپنے لگنا اَور پانی پیتے وقت خوف سے تھرتھرانا۔
19
مُلک کے لوگوں سے کہہ: ’یروشلیمؔ اَور اِسرائیل کے مُلک میں رہنے والوں کے متعلّق یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: وہ پریشانی اَور مایوسی کی حالت میں اَپنا کھانا کھایٔیں گے اَور پانی پیئیں گے کیونکہ اُن کے مُلک میں بسنے والے لوگوں کے تشدّد کے باعث اُن کے مُلک کی ہر چیز چھین لی جائے گی۔
20
آباد شہر اُجاڑ دئیے جایٔیں گے اَور مُلک ویران ہو جائے گا۔ تَب تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
21
یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
22
”اَے آدمؔ زاد، یہ کیسی ضرب المثل ہے جو اِسرائیل کے مُلک میں رائج ہے: ’دِن گزرتے جاتے ہیں اَور کویٔی رُویا پُوری نہیں ہوتی‘؟
23
اُن سے کہہ دے، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: مَیں اُس ضرب المثل کو ختم کر دُوں گا اَور پھر یہ اِسرائیل کے بارے میں اِستعمال نہ کی جائے گی۔‘ اُن سے کہہ دے، ’وہ دِن قریب ہیں جَب ہر رُویا پُوری ہوگی۔
24
کیونکہ بنی اِسرائیل کے درمیان آئندہ باطِل رُویتیں یا خُوشامدی پیشن گوئیاں نہ ہوں گی۔
25
لیکن مَیں یَاہوِہ اَپنی مرضی سے کلام کروں گا اَور وہ بِلا تاخیر پُورا ہوگا۔ کیونکہ اَے سرکش خاندان، مَیں تمہارے ایّام میں جو کچھ کہُوں گا اُسے پُورا کروں گا۔ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔‘ “
26
یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
27
”اَے آدمؔ زاد، بنی اِسرائیل کہہ رہے ہیں، ’جو رُویا یہ دیکھتا ہے وہ آج سے کیٔی سال بعد پُوری ہوگی اَور اُس کی نبُوّت بھی بہت دُور کے زمانہ سے تعلّق رکھتی ہے۔‘
28
”اِس لیٔے اُن سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں کہ اَب میرے کسی کلام کی تکمیل میں تاخیر نہ ہوگی بَلکہ جو کچھ مَیں کہُوں گا وہ ہوکر رہے گا۔ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔‘ “
← Chapter 11
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 13 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48