bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
Ezekiel 31
Ezekiel 31
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 30
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 32 →
1
گیارھویں سال کے تیسرے مہینے کے پہلے دِن یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
2
”اَے آدمؔ زاد، شاہِ مِصر فَرعوہؔ سے اَور اُس کے گِروہ سے کہہ: ” ’تمہاری شان و شوکت کا کس سے موازنہ کیا جائے؟
3
اشُور پر غور کرجو کسی زمانہ میں لبانونؔ کا دیودار تھا، جِس کی خُوبصورت شاخیں جنگل میں گھنا سایہ کئے ہُوئے تھیں؛ وہ نہایت اُونچا درخت تھا، اَور اُس کی چوٹی گھنی اَور ہری بھری شاخوں سے اُوپر نکلی ہُوئی تھی۔
4
پانی سے اُس کی نشو نُما ہُوئی، اَور گہرے چشموں نے اُسے بُلند قامت بنا دیا؛ اَور اُس کی ندیاں اُس کے دامن کے اِردگرد بہتی تھیں اُس نے اَپنی نہریں جنگل کے تمام درختوں تک پہُنچا دیں۔
5
اِس لیٔے اُس کا قد جنگل کے تمام درختوں سے اُونچا ہو گیا؛ اُس کی ٹہنیاں بڑھتی گئیں اَور کثرتِ آب سے اُس کی شاخیں لمبی ہوکر پھیلتی گئیں۔
6
ہَوا کے پرندوں نے اُس کی ٹہنیوں پر گھونسلے بنائے تھے، اَور جنگل کے درندے اُس کی شاخوں کے نیچے بچّے جنتے تھے؛ اَور بڑی بڑی قومیں اُس کے سایہ میں بستی تھیں۔
7
وہ اَپنی پھیلی ہُوئی ٹہنیوں کے باعث، خُوبصُورتی میں دلکش تھا، کیونکہ اُس کی جڑیں گہرائی میں کافی پانی تک جا پہُنچی تھیں۔
8
خُدا کے باغ کے دیودار بھی اُس کا مُقابلہ نہ کر سکے، نہ ہی صنوبر کے درخت اُس کی ٹہنیوں کی برابری کر سکے، نہ چُنار کے درخت اُس کی شاخوں کا مُقابلہ کر سکے۔ الغرض خُدا کے باغ کا کویٔی درخت خُوبصُورتی میں اُس کا ثانی نہ تھا۔
9
مَیں نے اُسے شاخوں کی کثرت سے خُوبصورت بنا دیا، یہاں تک کہ عدنؔ کے تمام درخت جو خُدا کے باغ میں تھے اُس پر رشک کرتے تھے۔
10
” ’چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: چونکہ عظیم دیودار اِس قدر بُلند قامت بنا اَور اُس نے اَپنا سَر گھنے پتّوں میں سے اُونچا اُٹھایا اَور اَپنی بُلندی پر فخر کرنے لگا،
11
اِس لیٔے مَیں نے اُسے قوموں کے حُکمران کے حوالہ کیا تاکہ وہ اُسے اَپنی شرارت کا مُناسب صِلہ دے اَور مَیں نے اُسے الگ کر دیا۔
12
اَور نہایت سنگدل پردیسی قوموں نے اُسے کاٹ کر رکھ دیا۔ اُس کی ٹہنیاں پہاڑوں پر اَور تمام کھائیوں میں گرگئیں۔ اَور اُس کی شاخیں ٹوٹ کر مُلک کے تمام نالوں میں بِکھر گئیں۔ اَور رُوئے زمین کی تمام قومیں اُس کے سایہ سے نکل کر اُسے چھوڑکر چلی گئیں۔
13
ہَوا کے تمام پرندوں نے اُس کے ٹُوٹے ہُوئے تنے پر بسیرا کیا اَور کھیت کے جنگلی جانوروں نے اُس کی شاخوں میں قِیام کیا۔
14
اِس لیٔے پانی کے کنارے کے درختوں میں سے کویٔی درخت کبھی بھی اَپنا سَر گھنی ٹہنیوں سے اُوپر اُٹھاکر اَپنی بُلندی پر فخر نہ کرے۔ اَور درخت جو اِس قدر سیراب ہُوں، کبھی اِتنے بُلند نہ ہوں کیونکہ وہ سَب موت کے لئے مُقرّر کئےگئے تاکہ وہ گڑھے میں جانے والے لوگوں کے ساتھ زمین کے نیچے جا ملیں۔
15
” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: جِس دِن اُسے مرنے والوں کے دائرے میں اُتارا گیا، مَیں نے اُس کی خاطِر گہرے چشموں کو تُم سے ڈھانک دیا، اُس کی دریاؤں کو روکے رکھا اَور اُن کے سیلاب کو تھام لیا۔ اِس وجہ سے مَیں نے لبانونؔ پر اُداسی طاری کی اَور کھیتوں کے تمام درخت مُرجھا گیٔے۔
16
جَب مَیں نے اُسے گڑھے میں جانے والوں کے ساتھ قبر میں ڈالا تو اُس کے گرنے کے شور سے مَیں نے قوموں کو لرزا دیا۔ تَب عدنؔ کے تمام درختوں نے یعنی لبانونؔ کے چیدہ اَور بہترین درختوں نے جو پانی کی فراوانی کے علاقوں میں تھے، زمین کے نیچے تسلّی پائی۔
17
وہ بھی، اُس عظیم دیودار کے مانند، جو سایہ میں بستے تھے اَورجو مُختلف قوموں میں اُس کے رفیق تھے وہ بھی اُس کے ساتھ قبر میں چلے گیٔے اَور اُن سے مِل گیٔے جو تلوار سے مارے گیٔے تھے۔
18
” ’شان و شوکت اَور عظمت و جلال میں عدنؔ کے کِن درختوں کا تیرے ساتھ موازنہ کیا جا سَکتا ہے؟ لیکن تُو بھی عدنؔ کے اَور درختوں کے ساتھ زمین میں اُتارا جائے گا اَور وہاں تُو تلوار سے مارے ہُوئے نامختونوں کے ساتھ پڑا رہے گا۔ ” ’یہی فَرعوہؔ اَور اُس کے تمام گِروہ کا اَنجام ہے۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔‘ “
← Chapter 30
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 32 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48