bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
Ezekiel 30
Ezekiel 30
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 29
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 31 →
1
یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
2
”اَے آدمؔ زاد، نبُوّت کر اَور کہہ: ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’ماتم کرو اَور کہو، ”اُس دِن پر افسوس!“
3
کیونکہ وہ دِن نزدیک ہے، یَاہوِہ کا دِن قریب ہے۔ یعنی بادلوں کا دِن، اَور قوموں کی سزا کا وقت۔
4
مِصر کے خِلاف تلوار اُٹھے گی، اَور مِصر میں قتلِ عام ہوگا۔ اَور کُوشؔ پر مصائب کا وقت آئے گا۔ اُس کی دولت لُوٹ لی جائے گی، اَور اُس کی بُنیادیں ڈھا دی جایٔیں گی، تَب اہلِ کُوشؔ سخت تکلیف میں ہوں گے۔
5
کُوشؔ۔ فُوطؔ، لُودؔ، تمام عربستانؔ، لیبیا اَور اُس مُلک کے لوگ جنہوں نے عہد کیا ہے سَب مِصریوں کے ساتھ تلوار سے مارے جایٔیں گے۔
6
” ’یَاہوِہ قادر نے یُوں فرمایاہے: ” ’مِصر کے اِتّحادی تباہ ہو جائیں گے۔ اَور جِس قُوّت پر اُسے غُرور ہے وہ ٹوٹ جائے گی۔ مِگدُلؔ سے لے کر آسوانؔ تک اُس کے باشِندے تلوار سے مارے جایٔیں گے، یہ یَاہوِہ خُدا نے فرمایاہے۔
7
وہ ویران مُلکوں کے درمیان ویران ہوں گے، اَور اُن کے شہر اُجڑے ہُوئے شہروں کے ساتھ کھنڈر بَن جایٔیں گے۔
8
جَب مَیں مِصر میں آگ لگا دُوں گا اَور اُس کے سَب مددگار ہلاک کئے جایٔیں گے، تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
9
” ’اُس روز میری طرف سے کیٔی قاصِد جہازوں پر سوار ہوکر روانہ ہوں گے تاکہ وہ غافل کُوشیوں کو خوفزدہ کر سکیں کیونکہ مِصر کی سزا کے دِن وہ سخت تکلیف میں ہوں گے اَور وہ دِن یقیناً آئے گا۔
10
” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’مَیں شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ کے ہاتھوں مِصر کے گِروہ کا خاتِمہ کر دُوں گا۔
11
اُسے اَور اُس کی فَوج کو جو نہایت ہی سنگدل قوم ہے۔ مُلک کو تباہ کرنے کے لیٔے مدعو کیا جائے گا۔ وہ مِصر پر تلوار چلائیں گے اَور مُلک کو مقتولوں سے بھر دیں گے۔
12
میں دریائے نیل کے چشموں کو خشک کر دُوں گا اَور مُلک کو بدکاروں کے ہاتھ فروخت کر دُوں گا؛ یُوں مُلک اَور اُس کے اَندر کی ہر شَے کو پردیسیوں کے ہاتھ تباہ کر دُوں گا۔ میں یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے۔
13
” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’میں میمفِسؔ نُوفؔ کے بُتوں کو برباد کر دُوں گا اَور اُس کی مورتیوں کو تباہ کر دُوں گا۔ اَب مِصر میں کبھی کویٔی شہزادہ برپا نہ ہوگا، اَور مَیں تمام مُلک میں خوف کا ماحول پیدا کروں گا۔
14
میں فتروس کو اُجاڑ دُوں گا؛ ضعنؔ کو آگ لگا دُوں گا اَور تھیبیس کو سزا دُوں گا۔
15
مَیں مِصر کے مضبُوط قلعہ پلوسیئم پر اَپنا قہر نازل کروں گا، اَور تھیبیس کے گِروہ کا خاتِمہ کر دُوں گا۔
16
مَیں مِصر کو آگ لگا دُوں گا؛ اَور پلوسیئم درد میں تڑپے گا۔ اَور تھیبیس دَم بھر میں تسخیر کر لیا جائے گا؛ اَور میمفِسؔ مُستقِل بےچینی میں ہوگا۔
17
اَونؔ اَور فی بِستؔ کے نوجوان مَرد تلوار سے مارے جایٔیں گے۔ اَور خُود شہر (کے لوگ) اسیری میں چلے جایٔیں گے۔
18
جَب مَیں مِصر کا جُوا توڑوں گا تَب وہ تحفنحِیسؔ کے لیٔے نہایت تاریک دِن ہوگا؛ اَور وہاں اُس کی قُوّت جِس پر اُسے فخر ہے ختم ہو جائے گی۔ اُس پر گھٹا چھا جائے گی، اَور اُس کے دیہات اسیر ہو جایٔیں گے۔
19
اِس طرح میں مِصریوں کو سزا دُوں گا، اَور وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “
20
گیارھویں سال کے پہلے مہینے کے ساتویں دِن یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:
21
”اَے آدمؔ زاد، مَیں نے شاہِ مِصر فَرعوہؔ کا بازو توڑ دیا ہے۔ اُسے نہ تو باندھا گیا تاکہ تندرست ہو جائے، نہ ہی لکڑی کی پٹّی کا سہارا دے کر لپیٹا گیا تاکہ اُس میں اِس قدر مضبُوطی آ جائے کہ تلوار پکڑ سکے۔
22
چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: میں شاہِ مِصر فَرعوہؔ کے خِلاف ہُوں اَور مَیں اُس کے دونوں بازو توڑ دُوں گا، جو تندرست ہے اُسے بھی اَورجو ٹوٹ چُکاہے اُسے بھی۔ اَور تلوار اُس کے ہاتھ سے گرا دوں گا۔
23
میں مِصریوں کو مُختلف قوموں میں مُنتشر کر دُوں گا اَور اُنہیں مُختلف ممالک میں بِکھیر دُوں گا۔
24
میں شاہِ بابیل کے بازوؤں کو تقویّت بخشوں گا اَور اَپنی تلوار اُس کے ہاتھ میں تھما دُوں گا لیکن مَیں فَرعوہؔ کے بازوؤں کو توڑ دُوں گا اَور وہ اُس کے سامنے ایک سخت زخمی شخص جَیسے موت کے لئے کراہاتا ہے۔
25
میں شاہِ بابیل کے بازوؤں کو مضبُوط کروں گا لیکن فَرعوہؔ کے بازو ڈھیلے پڑ جایٔیں گے۔ جَب مَیں اَپنی تلوار شاہِ بابیل کے ہاتھ میں دُوں گا اَور وہ اُسے مِصریوں کے خِلاف اُٹھائے گا تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔
26
میں مِصریوں کو مُختلف قوموں میں مُنتشر کر دُوں گا اَور اُنہیں مُختلف ممالک میں بِکھیر دُوں گا۔ تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔“
← Chapter 29
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 43
Chapter 44
Chapter 45
Chapter 46
Chapter 47
Chapter 48
Chapter 31 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48