bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
Job 14
Job 14
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 13
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 15 →
1
”اِنسان جو عورت سے پیدا ہوتاہے، چند روزہ ہے اَور مُصیبت کا مارا ہُوا بھی۔
2
وہ پھُول کی طرح کھِلتا، اَور مُرجھا جاتا ہے؛ وہ تیزی سے گزرتے ہُوئے سایہ کی طرح قائِم نہیں رہتا۔
3
کیا تُم اَیسے اِنسان پر اَپنی آنکھیں جمائے رکھتا ہے؟ کیا تُم میرے ساتھ عدالت میں جاؤگے؟
4
وہ کون ہے جو ناپاک میں سے پاک شَے نکال سکے؟ کویٔی بھی نہیں!
5
اِنسان کے دِن مُعیّن ہیں؛ تُم نے اُس کے مہینوں کی تعداد طے کر رکھی ہے اَور اُس کی حُدوُد مُقرّر کر دی ہیں جنہیں وہ پار نہیں کر سَکتا۔
6
چنانچہ اُس سے نظر ہٹا لیں اَور اُسے آرام کرنے دیں، جَب تک کہ وہ ایک مزدُور کی طرح اَپنا دِن پُورا نہ کر لے۔
7
”درخت کو تو اُمّید رہتی ہے؛ اگر اُسے کاٹ ڈالا جائے تو وہ پھر سے پھوٹ نکلے گا، اَور اُس کی نئی کونپلیں معدوم نہ ہوں گی۔
8
اگرچہ اُس کی جڑیں زمین میں پرانی ہو جایٔیں اَور اُس کا تنا مٹّی میں گل جائے،
9
تو بھی پانی کی خُوشبو ہی سے اُس میں شگوفے پھوٹ نکلیں گے اَور وہ پَودے کی طرح شاخیں نکالے گا۔
10
لیکن اِنسان مَرجاتا ہے اَور پھر نہیں اُٹھتا؛ وہ آخِری سانس لیتا ہے اَور باقی نہیں رہتا۔
11
جِس طرح پانی سمُندر سے غائب ہو جاتا ہے اَور دریا کی شاہراہ سُوکھ جاتی ہے،
12
اُسی طرح اِنسان مرجاتا ہے اَور پھر نہیں اُٹھتا؛ جَب تک آسمان ٹل نہ جایٔیں اِنسان نہیں بیدار ہوں گے نہ اَپنی نیند سے بیدار کئے جائیں گے۔
13
”کاش کہ آپ مُجھے قبر میں چھُپا لیتے اَور اَپنا غضب ٹلنے تک مُجھے چُھپائے رکھتے! کاش کہ آپ میرے لیٔے کویٔی وقت مُقرّر کرتے اَور پھر مُجھے یاد فرماتے!
14
اگر اِنسان مَر جائے تو کیا وہ پھر سے جی سکےگا؟ اَپنی مشقّت کے تمام ایّام تک میں اَپنی مخلصی کا منتظر رہُوں گا۔
15
آپ آواز دیں گے اَور مَیں تُمہیں جَواب دُوں گا؛ آپ اَپنے ہاتھوں سے بنائی ہُوئی مخلُوق کی طرف متوجّہ ہوں گے۔
16
تَب آپ میرے قدم ضروُر گنیں گے لیکن میرے گُناہ کا حِساب نہ رکھیں گے۔
17
میری خطائیں ایک تھیلی میں مُہر بند کر دی جایٔیں گی؛ آپ میرے گُناہ پر پردہ ڈالیں گے۔
18
”لیکن جِس طرح ایک پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر گِر جاتا ہے، اَور ایک چٹّان اَپنی جگہ سے ہٹائی جاتی ہے۔
19
جِس طرح پانی پتّھروں کو گھِس ڈالتا ہے اَور سیلاب مٹّی کو بہا لے جاتا ہے، اُسی طرح آپ اِنسان کی اُمّید پر پانی پھیر دیتے ہیں۔
20
آپ ہمیشہ کے لیٔے اُس پر غالب آتے ہیں اَور وہ چل بستا ہے؛ آپ اُس کا چہرہ بدل دیتے ہیں اَور وہ رحلت کر جاتا ہے۔
21
اگر اُس کے بیٹے عزّت پاتے ہیں تو اُس کا بھی اُسے علم نہیں ہوتا؛ اَور اگر وہ ذلیل کئے جاتے ہیں تو اُنہیں خبر تک نہیں ہوتی۔
22
وہ صِرف اَپنے ہی جِسم کا درد محسُوس کرتے ہیں اَور صِرف اَپنے ہی لیٔے ماتم کرتے ہیں۔“
← Chapter 13
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 15 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42