bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
/
Job 4
Job 4
Urdu UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
← Chapter 3
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 5 →
1
تَب تیمانی شہری اِلیفزؔ نے ایُّوب کو جَواب دیا:
2
”اگر کوئی آپ سے کوئی بات کرے تو کیا آپ صبر رکھ کر میری بات غور سے سنوگے؟ اِس لیٔے کہ کون اَپنا مُنہ بند کرکے چُپ رہ سَکتا ہے؟
3
ذرا غور کرو آپ نے کس طرح کیٔی لوگوں کی ہدایت فرمائی، اَور کس طرح آپ نے کمزور ہاتھوں کو تقویّت دی۔
4
آپ کے الفاظ نے لڑکھڑاتے ہوؤں کو سہارا دیا؛ اَور آپ نے لرزتے ہُوئے گھٹنوں کو قُوّت بخشی۔
5
لیکن اَب جَب آپ پر آفت آئی تو آپ نے ہمّت ہار دی؛ اُس نے آپ کو ہاتھ لگایا اَور آپ پریشان ہو گئے۔
6
کیا آپ کو اَپنی راستی پر بھروسا نہیں اَور اَپنے بے اِلزام طور طریقوں پر آپ کو کویٔی اُمّید نہیں؟
7
”ذرا غور تو کرو، کیا کویٔی بے قُصُور کبھی ہلاک ہُواہے؟ یا راستباز کبھی نِیست نابود ہُوئے ہیں؟
8
جہاں تک مَیں نے دیکھاہے کہ جو بدی کی کھیتی کا ہل چلاتے ہیں اَور نُقصان کا بیج بوتے ہیں، وہ وَیسی ہی فصل کاٹتے بھی ہیں۔
9
اَیسے لوگ خُدا کی ایک پھُونک سے ہلاک ہو جاتے ہیں؛ اَور اُن کے غضب کی آندھی سے فنا ہو جاتے ہیں۔
10
شیر چاہے جِتنا دھاڑ مارے اَور غُرّائے، پھر بھی خُونخوار شیر ببروں کے دانت توڑ دئیے جاتے ہیں۔
11
شِکار نہ مِلنے کی وجہ سے شیر ہلاک ہو جاتا ہے، اَور شیرنی کے بچّے پراگندہ ہو جاتے ہیں۔
12
”ایک بات چُپکے سے مُجھ تک پہُنچائی گئی، اَور میرے کانوں میں اُس کی آواز سُنایٔی دی۔
13
رات کو مَیں نے ایک پریشان کر دینے والی رُویا دیکھی، جَب اِنسان گہری نیند میں سویا ہوتاہے،
14
تَب خوف اَور تھرتھراہٹ نے مُجھے آن دبوچا اَور میری تمام ہڈّیوں کو جھنجوڑ ڈالا۔
15
تَب ایک رُوح میرے سامنے سے گزری، اَور میرے جِسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
16
وہ رُوح ایک جگہ کھڑی ہو گئی، لیکن مَیں اُسے پہچان نہ پایا۔ بس ایک صورت سِی میری آنکھوں کے سامنے تھی، پھر مُجھے ایک دھیمی آواز سُنایٔی دی:
17
’کیا فانی اِنسان خُدا سے زِیادہ راستباز ہو سَکتا ہے؟ یا آدمی اَپنے خالق خُدا سے زِیادہ پاک ہو سَکتا ہے؟
18
اگر خُدا اَپنے آسمانی خادِموں پر اِعتبار نہیں کرتا، اَور اَپنے فرشتوں کو بھی خطاکار قرار ٹھہراتا ہے،
19
تو پھر اُن کی حیثیت کیا ہے جو مٹّی کے گھروں میں رہتے ہیں، جِن کی بُنیاد خاک میں ہے، اَورجو کیڑے کی طرح مسل دئیے جاتے ہیں!
20
صُبح کو تو وہ زندہ ہیں لیکن شام تک وہ فنا ہو جاتے ہیں، وہ نِیست و نابود ہو جاتے ہیں اَور کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی۔
21
کیا اُن کے خیمہ کی رسّیاں کھولی نہیں جاتی ہیں اَور اُن کا خیمہ گِر جاتا ہے، اَور وہ جہالت میں مَر جاتے ہیں؟‘
← Chapter 3
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 5 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42