bible
ra
🌐 Language
English
Español
Français
Deutsch
Português
Italiano
Nederlands
Русский
中文
日本語
한국어
العربية
Türkçe
Tiếng Việt
ไทย
Indonesia
All Languages
Home
/
Urdu
/
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
/
Job 3
Job 3
Urdu URD (کِتابِ مُقادّس)
← Chapter 2
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 4 →
1
اِس کے بعد ایُّوب نے اپنا مُنہ کھول کر اپنے جنم دِن پر لَعنت کی۔
2
اور ایُّوب کہنے لگا:-
3
نابُود ہو وہ دِن جِس میں مَیں پَیدا ہُؤا اور وہ رات بھی جِس میں کہا گیا کہ دیکھو بیٹا ہُؤا!
4
وہ دِن اندھیرا ہو جائے۔ خُدا اُوپر سے اُس کا لِحاظ نہ کرے اور نہ اُس پر روشنی پڑے!
5
اندھیرا اور مَوت کا سایہ اُس پر قابِض ہوں۔ بدلی اُس پر چھائی رہے اور دِن کو تارِیک کر دینے والی چِیزیں اُسے دہشت زدہ کریں۔
6
گہری تارِیکی اُس رات کو دبوچ لے۔ وہ سال کے دِنوں کے درمِیان خُوشی نہ کرنے پائے اور نہ مہِینوں کے شُمار میں آئے!
7
وہ رات بانجھ ہو جائے۔ اُس میں خُوشی کی کوئی صدا نہ آئے!
8
دِن پر لَعنت کرنے والے اُس پر لَعنت کریں اور وہ بھی جو اژدہا کو چھیڑنے کو تیّار ہیں!
9
اُس کی شام کے تارے تارِیک ہو جائیں۔ وہ رَوشنی کی راہ دیکھے جب کہ وہ ہے نہیں اور نہ وہ صُبح کی پلکوں کو دیکھے!
10
کیونکہ اُس نے میری ماں کے رَحِم کے دروازوں کو بند نہ کِیا اور دُکھ کو میری آنکھوں سے چِھپا نہ رکھّا۔
11
مَیں رَحِم ہی میں کیوں نہ مَر گیا؟ مَیں نے پیٹ سے نِکلتے ہی جان کیوں نہ دے دی؟
12
مُجھے قبُول کرنے کو گُھٹنے کیوں تھے اور چھاتِیاں کہ مَیں اُن سے پِیُوں؟
13
نہیں تو اِس وقت مَیں پڑا ہوتا اور بے خبر رہتا مَیں سو جاتا۔ تب مُجھے آرام مِلتا۔
14
زمِین کے بادشاہوں اور مُشِیروں کے ساتھ جِنہوں نے اپنے لِئے مقبرے بنائے۔
15
یا اُن شاہزادوں کے ساتھ ہوتا جِن کے پاس سونا تھا۔ جِنہوں نے اپنے گھر چاندی سے بھر لِئے تھے۔
16
یا پوشِیدہ اِسقاطِ حمل کی مانِند مَیں وجُود میں نہ آتا یا اُن بچّوں کی مانِند جِنہوں نے رَوشنی ہی نہ دیکھی۔
17
وہاں شرِیر فساد سے باز آتے ہیں اور تھکے ماندے راحت پاتے ہیں۔
18
وہاں قَیدی مِل کر آرام کرتے ہیں اور داروغہ کی آواز سُننے میں نہیں آتی۔
19
چھوٹے اور بڑے دونوں وہِیں ہیں اور نَوکر اپنے آقا سے آزاد ہے۔
20
دُکھیارے کو روشنی اور تلخ جان کو زِندگی کیوں مِلتی ہے؟
21
جو مَوت کی راہ دیکھتے ہیں پر وہ آتی نہیں اور چِھپے خزانوں سے زِیادہ اُس کے جویان ہیں۔
22
جو نِہایت شادمان اور خُوش ہوتے ہیں جب قبر کو پا لیتے ہیں
23
اَیسے آدمی کو روشنی کیوں مِلتی ہے جِس کی راہ چِھپی ہے اور جِسے خُدا نے ہر طرف سے بند کر دِیا ہے؟
24
کیونکہ میرے کھانے کی جگہ میری آہیں ہیں اور میرا کراہنا پانی کی طرح جاری ہے۔
25
کیونکہ جِس بات سے مَیں ڈرتا ہُوں وُہی مُجھ پر آتی ہے اور جِس بات کا مُجھے خَوف ہوتا ہے وُہی مُجھ پر گُذرتی ہے۔
26
کیونکہ مُجھے نہ چَین ہے نہ آرام نہ مُجھے کل پڑتی ہے بلکہ مُصِیبت ہی آتی ہے۔
← Chapter 2
Jump to:
Chapter 1
Chapter 2
Chapter 3
Chapter 4
Chapter 5
Chapter 6
Chapter 7
Chapter 8
Chapter 9
Chapter 10
Chapter 11
Chapter 12
Chapter 13
Chapter 14
Chapter 15
Chapter 16
Chapter 17
Chapter 18
Chapter 19
Chapter 20
Chapter 21
Chapter 22
Chapter 23
Chapter 24
Chapter 25
Chapter 26
Chapter 27
Chapter 28
Chapter 29
Chapter 30
Chapter 31
Chapter 32
Chapter 33
Chapter 34
Chapter 35
Chapter 36
Chapter 37
Chapter 38
Chapter 39
Chapter 40
Chapter 41
Chapter 42
Chapter 4 →
All chapters:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42